نندو، کنکاری گاؤں کے چنندہ چرواہوں میں سے ایک ہیں۔ یہ گاؤں پلامو کے چین پور بلاک میں پڑتا ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں ہونے والی مویشیوں کی گنتی کے مطابق، جھارکھنڈ میں ۶ لاکھ سے زیادہ بھیڑیں ہیں۔ یہ ان چنندہ ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں سب سے زیادہ بکری پالنے کا کام ہوتا ہے۔ یہاں ۸۸ لاکھ سے زیادہ جانور اور تقریباً ۱ء۱ کروڑ مویشی ہیں۔ یہ سبھی جانور ایک ہی چراگاہ میں چرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
نندو پال کے چچیرے بھائی رام رتی (۶۲ سال) بتاتے ہیں، ’’کبھی کبھی ہمیں چراگاہ کی تلاش میں ۱۲-۱۳ کوس [تقریباً ۴۰ کلومیٹر] تک بھٹکنا پڑتا ہ۔ پہلے دوہر میں گھاس کی بھرمار رہتی تھی، جیسے مگر گھاس اور ڈنٹھل، لیکن اب وہ بھی نہیں ملتی۔‘‘ مگر گھاس موٹی اور کھردری ہوتی ہے، جو یہاں کے دوہر (قدرتی آبی ذرائع) کے آس پاس خوب اُگتی ہے۔ اسے عام طور پر مویشیوں کے چارے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ صرف گیلی مٹی میں ہی پنپتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے آبی ذرائع خشک ہوتے جا رہے ہیں، یہ گھاس بھی غائب ہو گئی ہے۔
اب تو زرعی زمینیں بھی جانوروں کو وافر چارہ نہیں فراہم کر پا رہی ہیں۔ پہلے کھیتوں میں چنا اور چکوَڑ (سینّا آوبٹوسیفولیا) جیسی فصلیں اُگائی جاتی تھیں، جن کے بیج جانوروں کو کھیتوں میں پڑے ہوئے مل جاتے تھے۔ لیکن اب انہیں ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے کیوں کہ اب یہ فصلیں بہت کم کسان اگاتے ہیں۔ ان کی جگہ زیادہ تر لوگ مکئی، دھان اور گیہوں اُگانے لگے ہیں۔ یہ ایسی فصلیں ہیں جو جانوروں کو چرنے لائق کچھ نہیں چھوڑتیں۔ نندو کہتے ہیں، ’’بھیڑوں کو اب پہلے جیسی خوراک نہیں مل رہی ہے۔ اب تو بس تھوڑی سی سوانا گھاس اور تھوڑی سی دوب گھاس [سائنوڈون ڈیکٹیلان] ہی دکھائی دیتی ہے۔
علاقہ میں لگاتار دو بار ہوئی خشک سالی (۲۰۲۲ اور ۲۰۲۳ میں) نے یا تو زیادہ آبی ذرائع کو خشک کر دیا ہے یا انہیں آلودہ کر دیا ہے۔ نندو کہتے ہیں، ’’بھیڑوں کو زندہ رہنے کے لیے صاف پانی چاہیے۔‘‘ انہوں نے پچھلی دہائی میں کئی آبی ذرائع کو غائب ہوتے دیکھا ہے۔
پچھلے سال کے قحط کے بارے میں بتاتے ہوئے نندو تیز آواز میں کہتے ہیں، ’’ہم بالکل حاشیہ پر پہنچ گئے تھے۔ پورے دن چرائی کے بعد بھی بھیڑیں بھوکی رہتی تھیں۔‘‘ کچھ لمحہ رک کر وہ مزید بولے، ’’پچھلے سال [۲۰۲۳] میری ۲۰ بھیڑیں مر گئیں۔‘‘
حال ہی میں، نندو اور ان کے ساتھیوں نے اپنی بھیڑوں کو نیوموکوکل بیماری سے بچانے کے لیے ٹیکہ لگوایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری کا خطرہ ان جانوروں کو ہوتا ہے جنہیں پینے کے لیے صاف پانی نہیں ملتا۔