’’میری ماں ان سے ایک بار ملی تھیں۔‘‘
شانتی نکیتن میں ہر کوئی جانتا ہے کہ ’’وہ‘‘ کون ہیں۔
بپن کرمکار اپنے ماہر ہاتھوں سے مٹی سے رابندر ناتھ ٹیگور کی ایک مورتی بنا رہے ہیں۔ وہ اسی عظیم ثقافتی شخصیت کی بات کر رہے ہیں، جن کا نام یہاں کی زندگی میں چاروں طرف دکھائی دیتا ہے۔ ’’شانتی نکیتن آنے والے سیاح رابندر ناتھ کی کوئی نہ کوئی چیز ضرور لے جاتے ہیں – مورتی ہو یا تصویر۔ جس طرح پوری جانے پر ہم جگن ناتھ کی مورتی خریدتے ہیں،‘‘ وہ عقیدت سے کہتے ہیں، اور ایک ہندو دیوتا کا موازنہ ۲۰ویں صدی کی اس بڑے ادیب سے کر رہے ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ شاعر کے نام کے آخری لفظ ’ٹیگور‘ (ٹھاکر) کا بنگالی تلفظ اسی زبان میں ’غیبی‘ یا ’خدائی‘ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے – وہی زبان جسے ٹیگور نے اپنے ادب اور موسیقی سے مالا مال کیا۔
ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، جب ٹیگور نے اُس زمانے کے ایک گاؤں میں اپنا آشرم اسکول اور یونیورسٹی (وشو بھارتی) قائم کی تھی۔ آج شانتی نکیتن مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کا ایک مصروف قصبہ اور سیاحتی مرکز ہے۔ کولکاتا سے ایکسپریس ٹرین سے یہاں پہنچنے میں تین گھنٹے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔
نوبل انعام یافتہ ٹیگور آج بھی شانتی نکیتن کی زندگی اور منظر نامہ میں ہر جگہ موجود ہیں – دکانوں کے ناموں میں، دیواروں پر آویزاں تصویروں میں، چھوٹے مورتیوں اور کپڑوں میں، سنیما ہالوں کے ناموں میں اور مختلف قسم کی یادگاری چیزوں میں۔ شانتی نکیتن میں شاید ہی کوئی قدم ایسا ہو، جو ٹیگور سے وابستہ کسی چیز کے سامنے نہ لے جائے۔

























