اس موسم میں پورنیہ ضلع کے مکئی بیلٹ سے گزرتی ہوئی مرکزی پکّی سڑک کے دونوں کنارے سونے سے جَڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ مکئی کی فصل کٹ چکی ہے اور کسانوں نے اپنے کھیتوں کے قریب سڑک کے دونوں کناروں پر زرد مکئی کی بالیوں کو سوکھنے کے لیے قالین کی طرح بچھا دیا ہے۔ چندوا-روپس پور آدیواسی ٹولہ کے قریب پہنچتے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ سنتھال مرد اور عورتیں لکڑی کے ہل نما ڈنڈے سے بالیوں کو الٹ پلٹ رہے ہیں، تاکہ ان کی نمی جاتی رہے۔ نزدیک ہی کوئی چوکیدار پہرہ دے رہا ہوگا، جو تھوڑی دیر میں زمینداروں کے حصہ کی وصولی کے لیے ان کے دروازوں پر آ دھمکے گا۔ یہ وہ زمیندار ہیں جن کی زمینوں پر آدیواسی نسل در نسل بطور بٹائی دار کام کرتے آئے ہیں، اور جنہیں اب بھی اپنی پیداوار کا ایک حصہ دیتے ہیں۔ ریاست میں زمین کے حقوق کی اصلاحات کے برسوں بعد بھی ایسا ہو رہا ہے۔
مرکزی سڑک سے کچھ فاصلہ پر گاؤں کے قریب ان کے آباء و اجداد کی یادگار بھی پہرہ دے رہی ہے۔ وہ لوگ پانچ دہائی قبل ایک قتل عام کے دوران مارے گئے تھے۔ چہار دیواری والے کھیت کے اندر ایک بلند پلیٹ فارم پر ایک سفید ستون پر سنگ مرمر کی تختی لگی ہوئی ہے، جس پر ان تمام ۱۴ افراد کے نام درج ہیں جو ۲۲ نومبر ۱۹۷۱ کو اپنے زمینداروں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہوئے تھے۔
’’پورا گاؤں کسی شمشان کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر گھر سے آہیں نکل رہی تھیں اور دھواں اٹھ رہا تھا۔ لوگ زار و قطار رو رہے تھے۔ انہوں نے [زمینداروں کی نجی فوج نے] ۴۵ گھروں کو نذر آتش کر کے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔‘‘ شیو نارائن کی عمر نے اس قتل عام کی یادوں کو دھندلا نہیں کیا ہے۔ اس وقت انہوں نے اس سانحہ کو ایک نوعمر بچے کے طور پر دیکھا تھا۔ وقت کے ساتھ بہار میں ان کے لوگوں کے لیے بہت سی چیزیں ویسی کی ویسی ہی ہیں۔
اُس وقت بھی، ’’یہ زمین کی لڑائی تھی،‘‘ اب ۷۰ سال کے ہو چکے شیو نارائن مُرمو کہتے ہیں۔ انہوں نے اس قتل عام میں اپنے دو رشتہ داروں کو کھو دیا تھا۔ ’’سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔‘‘ جولائی ۲۰۲۵ کی ایک شام کو جب ہم ان سے گفتگو کر رہے ہیں، تو وہ پچھلے زمانہ کی باتوں کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ ’’وہ بندوقوں، لاٹھیوں، کلہاڑیوں سے مسلح ہو کر آئے تھے اور ہماری بستی کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ انہوں نے ہمارے آدیواسیوں کے گھروں کو آگ لگا دی اور جو بھی ان کے راستے میں آیا اسے گولی مار کر زندہ جلا دیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
لیکن خود شیو نارائن کے لیے یہ صدمہ ماضی میں مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ قتل عام کے تقریباً سات سال پہلے، جب وہ بمشکل ۱۰ سال کے تھے، تو ان کے والد لکھن لال ہیمبرم کو قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کی وجہ ایک بار پھر زمین ہی تھی۔ ’’وہ پڑھے لکھے تھے اور سنتھال آدیواسیوں کی زمین کے مالکانہ حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے عدالت جاتے تھے۔ ایک دفعہ ان سے ملنے آئے زمیندار کے لوگوں کو وہ چھوڑنے گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔ تین دن بعد ان کی لاش گھر سے چار کلومیٹر دور جنگل میں ملی تھی۔ ان کا گلا کٹا ہوا تھا۔‘‘ اس معاملے میں کسی کو سزا نہیں ملی تھی۔
جب پورنیہ میں قتل عام کی ایک دہائی بعد ایک نچلی عدالت نے اس مقدمہ میں ۲۵ سے ۳۰ زمینداروں کو ۲۰ سال قید کی سزا سنائی تو شیو نارائن نے سوچا کہ وقت بدل رہا ہے۔
لیکن وہ صرف آدھی کہانی تھی۔















