پی سیندرائے پیرومَل کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، تاکہ وہ ذات پر مبنی تھیٹر کی صنف ’’راجا رانی اٹّم‘‘ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ وہ اور ان کے بھائی نے اپنے بچپن کے دن عورتوں کے کردار ادا کرتے ہوئے گزارے – جہاں انہیں طعنوں، جنسی ہراسانی، اور روایت کے بوجھ کو سہنا پڑا۔ انہوں نے ۲۳ سال کی عمر میں، اکیلے ہی تعلیم حاصل کرنے کا بیڑا اٹھایا، جب کہ گزر بسر کے لیے راتوں کو رقص کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ آخرکار، وہ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب رہے – وہی تعلیم جو ان سے نظامی طور پر چھین لی گئی تھی۔ انہوں نے اسی لوک روایت پر پی ایچ ڈی کی، جس کو وہ برسوں سے نبھاتے آ رہے تھے، اور جس کا وعدہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر کیا جاتا ہے۔ مگر ان کے معاملہ میں یہ وعدہ زیادہ دنوں تک وفا نہ ہو سکا۔
T


Madurai, Tamil Nadu
|SAT, JUL 26, 2025
بطور پروفیسر ایک فنکار کا ٹوٹا خواب
ایک دلت لوک فنکار، جو پیدائش سے ذات پات کے نظام میں پھنسا ہوا ہے، اپنی قسمت سے فرار حاصل کرنے کے لیے تعلیم کا سہارا لیتا ہے، لیکن ایک بار پھر اسی جال میں پھنس جاتا ہے۔ یہ دستاویزی فلم اس کی مسلسل جدوجہد کو بیان کرتی ہے
Documentary
Video Editor
Translator
ویڈیو دیکھیں: پروفیسر کو سزا
فلم ساز پی سائی ناتھ اور پرتِشٹھا پانڈیہ کی شکر گزار ہیں، جن کے تعاون سے یہ دستاویزی فلم مکمل ہو سکی۔
ترجمہ نگار: قمر صدیقی
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/portrait-of-an-artist-as-professor-ur

