’’میں نے ایک زوردار دھماکہ کی آواز سنی اور دھوئیں کے بادلوں کا پیچھا کرتے ہوئے اُس سمت میں دوڑا جہاں سے دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکہ میں فیکٹری کی کچھ دیواریں ٹوٹ گئی تھیں۔ میں نے لِنگا سامی کو ملبے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ وہ نیم برہنہ حالت میں تھے، کیوں کہ ان کے کپڑے جل چکے تھے۔ جب ہم انہیں علاج کے لیے اسپتال لے جانے کی تیاری کر رہے تھے، تب وہ بار بار پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ زندہ ہیں، کیا وہ بچ گئے ہیں۔ وہ دوپہیہ گاڑی پر بیٹھ بھی نہیں پا رہے تھے، اس لیے ہمیں انھیں ٹھیلہ پر لیٹا کر اسپتال لے جانا پڑا،‘‘ حادثہ کے ایک دن بعد ماریش وَرَن نے مجھے بتایا، جو یہاں کے مقامی صحافی ہیں۔ ان کا گھر شیو کاشی کی اُس پٹاخہ فیکٹری سے چند قدموں کے ہی فاصلہ پر ہے جہاں یکم جولائی ۲۰۲۵ کو یہ دھماکہ ہوا تھا۔
میں ایک دن بعد جائے حادثہ پر لوٹی ہوں۔ فیکٹری کے دروازے بند ہیں۔ اس کی ایک عمارت پوری طرح ڈھے چکی ہے۔ آس پاس کی زمین کچّی ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے پختہ سڑک بھی نہیں ہے۔ اپنی دوپہیہ گاڑی کو یہاں تک لانے میں مجھے کافی مشقت اٹھانی پڑی۔ میں سوچنے لگی کہ یہاں سے ۲۵ کلومیٹر دور واقع اسپتال تک زخمیوں کو لے جانا کتنا مشکل رہا ہوگا۔




















