سات لڑکیاں، چھ گاؤں، پانچ مادری زبانیں، دو کھیل، اور کھیل کی ایک زبان!
وسنت شالہ کے کھیل کے میدان میں ۱۲ سالہ رنجن راٹھوا، ۱۱ سالہ جیوتی بھیل، ۹ سالہ شرمیلا دھائکی، ۱۰ سالہ کنجل نائکہ، اور ۱۰ سالہ نیرل راٹھوا کھیل میں مصروف ہیں۔ وسنت شالہ ان کا رہائشی پرائمری اسکول ہے جو گجرات کے چھوٹا ادے پور ضلع کے آدیواسی گاؤں تیج گڑھ میں کورج پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔
اڑکو دڑوکو دہی دڑوکو
شراون گاجے، پِلّو پاکے…
یہ گجراتی کے بڑ بڑ گیتوں، یا بچکانہ تک بندیوں کے ایک وسیع ذخیرہ سے لیا گیا ایک گیت ہے، جسے ریاست بھر کے بچے کھیلتے ہوئے گاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گیت کی زبان گروپ کے کسی بچے کی مادری زبان نہیں ہے۔ اپنے اسکول سے ۳۰ سے ۵۰ کلومیٹر کے دائرہ میں واقع گاؤوں کی رہنے والی پانچوں لڑکیاں اپنے گھروالوں سے اپنی اپنی مخصوص آدیواسی زبانوں جیسے راٹھوی، دھانکی، ڈونگرا بھیلی، نائکی وغیرہ میں بات کرتی ہیں۔ لیکن مرکزی دھارے کی گجراتی زبان ہی آدیواسی اکیڈمی کے اس کیمپس، جہاں ان کے اسکول اور ہاسٹل واقع ہیں، میں ان کی رابطہ کی زبان بن گئی ہے۔





