’’میرا نام تلسی بھائی نارن بھائی ہے، لیکن اگر آپ کو مجھے ڈھونڈنا ہے تو آپ کو کہنا پڑے گا کہ ’بچّن کو بلاؤ‘۔ سبھی مجھے اسی نام سے جانتے ہیں،‘‘ تلسی بھائی وضاحت کرتے ہیں کہ لوگ انہیں کیوں پیار سے اس فلمی سپر اسٹار کے نام سے پکارتے ہیں۔
یہ ۶۰ سالہ بزرگ اپنے بیٹے تنو بھائی کے ساتھ احمد آباد کی ایک کھلی بستی، گل بائی ٹیکرا کے قریب فٹ پاتھ پر رہتے ہیں۔ ان کی بیوی کی موت ان کے بیٹے تنو بھائی کی پیدائش کے فوراً بعد واقع ہو گئی تھی۔ ’’میری دادی نے میری پرورش کی ہے۔ وہ اب بھی زندہ ہیں اور ان کی عمر سو سال سے زیادہ ہو چکی ہے،‘‘ تنو بھائی، جو اب تیس برس کے ہیں، ہمیں بتاتے ہیں۔
باپ اور بیٹے دونوں صبح نو بجے سے رات نو بجے تک کباڑ اکٹھا کرتے ہیں، اور اسے میم نگر میں بھنگار والوں (کباڑ یوں) کو فروخت کرتے ہیں۔ میم نگر شہر کا ایک تعلقہ ہے، جہاں کباڑ چننے والے کلوگرام کے حساب سے اپنی جمع کی ہوئی چیزیں فروخت کرتے ہیں۔
جس دن اس رپورٹر کی ان سے ملاقات ہوئی، اس دن انہوں نے دوپہر دو بجے سے کام کر کے تقریباً چار کلو پلاسٹک کی بوتلیں اور ایک کلو گتے جمع کیے تھے، جسے کباڑ والوں سے فروخت کر کے انہوں نے ۱۱۰ روپے کمائے تھے۔ تلسی بھائی کہتے ہیں، ’’اس سال گرمی بہت زیادہ تھی، ہم بیمار پڑ جاتے۔ ہم نے جو گتے جمع کیے تھے ان کا استعمال دن میں گرمی سے نجات حاصل کرنے کے لیے پنکھے بنا کر کیے۔‘‘






