نامگھر کے فرش پر مٹی کے چراغ رکھے ہوئے ہیں، جو اپنی مدھم روشنی سے فرش کو منور کر رہے ہیں۔ یہ چراغ ان ناظرین کی رہنمائی کر رہے ہیں، جو اندر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گایَن (گلوکار) اور بایَن (ڈھولکیا) قطار میں کھڑے ہیں۔ ڈھولکیا ’کُھل‘ (آسام کا روایتی ڈھول) کو اپنے سینہ سے لگا کر رکھے ہوا ہے۔ جب سازندے پیتل کے بڑے جھانجھ (بور تال) بجانا شروع کرتے ہیں تو وہ چراغوں کی گرم روشنی میں چمک اٹھتے ہیں۔
شام کی پیشکش کا سوتردھار (راوی) کہانی بیان کرنا شروع کرتا ہے۔ کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے اور بِپُل داس روشنی میں قدم رکھتے ہیں۔
اس طرح رات بھر چلنے والا آسام کا روایتی ویشنوی مذہبی تھیٹر بھاؤنا جوش و خروش اور عزم کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں پیش کیے جانے والے ڈرامے زیادہ تر رامائن اور مہابھارت کے رزمیہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس میں ان کتابوں کے کسی ایک واقعہ کو ڈرامائی شکل دی جاتی ہے۔
بِپُل کا پسندیدہ کردار مہابھارت کے پانڈووں کی ماں کُنتی کا ہے۔ ’’گاؤں میں لوگ مجھے کُنتی کہتے ہیں،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔ تنہا ماں کے ذریعہ پرورش پانے والے بِپُل کا کہنا ہے کہ وہ مامتا کے ساتھ ایک فطری تعلق محسوس کرتے ہیں۔ ’’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر ایک ماں موجود ہے، جو مجھے کُنتی کے کردار سے جوڑتی ہے۔‘‘ وہ اپنے پسندیدہ اشعار گنگناتے ہیں:
















