پاری کی اسٹوریز ۱۵ زبانوں میں شائع کی جاتی ہیں: انگریزی، ہندی، اردو، مراٹھی، بنگالی، اڑیہ، تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ، پنجابی، چھتیس گڑھی، بھوجپوری، آسامی اور گجراتی۔ آپ ان میں سے کسی بھی زبان میں اسٹوری پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے پانچ زبانوں – ہندی، بنگالی، مراٹھی، اردو اور اڑیہ – کی اپنی ’لوکلائزڈ‘ سائٹس ہیں، یعنی ان کا اپنا ’ہوم پیج‘ ہے جہاں مینوز سمیت سب کچھ اس مخصوص زبان میں دستیاب ہے۔
ہاں، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ بڑے میڈیا ہاؤسز ضرور ہیں جہاں ۴۰ زبانوں میں نشر و اشاعت کا کام ہوتا ہے، لیکن ان میں سخت درجہ بندی دیکھنے کو ملتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان کی انگریزی سائٹس پر جو کچھ دستیاب ہے اس کا بہت ہی معمولی حصہ آپ کو ان کی ہندوستانی زبان کے پلیٹ فارموں پر دیکھنے کو ملے گا۔
پاری اس اصول کے ساتھ کام کرتا ہے: ہندوستان کی ہر ایک زبان آپ کی اپنی زبان ہے۔ اور اس کا مطلب ہے، تمام زبانوں کو برابری کا درجہ دینا- اسی لیے، اگر کوئی اسٹوری ایک زبان میں سامنے آتی ہے، تو ہم اسے فی الحال سبھی ۱۵ زبانوں میں شائع کرتے ہیں، یہی ہمارا مینڈیٹ ہے۔ آنے والے دنوں میں پاری پر زبانوں کی تعداد میں چاہے جتنا بھی اضافہ ہوتا چلا جائے، ہمارے اس مینڈیٹ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہم اس کام کو ترجمہ نگاروں کی ایک شاندار ٹیم کی بدولت انجام دے پا رہے ہیں۔ ابھی تک، ہم ۱۷۰ سے زیادہ ترجمہ نگاروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں – جن میں سے تقریباً ۴۰ ترجمہ نگار ہر مہینے سرگرم رہتے ہیں۔ لیکن، ہم صرف ترجمے ہی شائع نہیں کرتے بلکہ ہندوستانی زبانوں میں اصلی مواد بھی شائع کرتے ہیں۔
ہمارا ماننا ہے کہ ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینا پورے معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔ ملک کی لسانی کثرت نے ہی اس پرانی کہاوت کو جنم دیا کہ یہاں پر اگر ہر تین یا چار کلومیٹر کے بعد پانی کا ذائقہ بدل جاتا ہے، تو ہر ۱۲ سے ۱۵ کلومیٹر کے بعد زبان یا بولی بھی بدل جاتی ہے۔
لیکن ہم اس کے بارے میں مزید مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ایسے وقت میں تو بالکل بھی نہیں جب ’پیپلز لنگوسٹک سروے آف انڈیا‘ کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہو کہ تقریباً ۸۰۰ زندہ زبانوں کے اس ملک نے گزشتہ ۵۰ سالوں کے اندر ۲۲۵ زبانوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ نہ ہی ایسے وقت میں، جب اقوام متحدہ یہ دعویٰ کرے کہ دنیا میں بولی جانے والی ۹۵-۹۰ فیصد زبانیں اس صدی کے آخر تک یا تو ختم ہو چکی ہوں گی یا انہیں سنگین خطرہ درپیش ہوگا۔ اور نہ ہی ایسے وقت میں، جب پوری دنیا میں کم از کم ایک مقامی زبان کی موت ہر پندرہ دنوں میں ہو رہی ہے۔
پاری کی لسانی دنیا میں آپ کا خیر مقدم ہے۔


