’’ہم اپنا آدیواسی کھانا بھول گئے ہیں،‘‘ یوتمال میں رہنے والی چندا گھوڈام کہتی ہیں۔
دیہی ہندوستان میں ۷۵ فیصد سے بھی زیادہ عورتیں کاشتکاری سے متعلق کام کرتی ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت کم ایسی عورتیں ہیں، جن کے پاس اپنی زمینیں یا مویشی ہوں۔ بلکہ، قدرتی وسائل پر بھی ان کا حق نہیں کے برابر ہے۔ غذائی پیداوار اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں سب سے اہم رول ادا کرنے کے بعد بھی انہیں معاشرہ میں کسانوں کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔
مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور ودربھ جیسے خشک اور کسانوں کی خودکشی والے ضلعوں میں تمام چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے چندا جیسی کاشتکار زراعت کے شعبہ میں انتہائی خاموشی سے تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں اور اپنے روایتی کھانے کی اہمیت کو دوبارہ قائم کرنے میں مصروف ہیں۔
’’میں دوسری خواتین سے کہتی ہوں کہ ہم اپنے کھیتوں میں سب کچھ اُگا سکتے ہیں،‘‘ چندا مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔


