’’وہ رہا غورال!‘‘ اروناچل پردیش کے مغربی کمینگ ضلع کے ایک قصبہ سِنگچِنگ کی پیچ دار سڑکوں پر خاموشی کے ساتھ ڈرائیو کرتے ہوئے ڈاکٹر امیش سری نواسن اچانک چیخ پڑتے ہیں۔
کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹا لیکن فربہ اور بھورے رنگ کا بکرے جیسا جانور قلانچیں مارتا ہوا سڑک عبور کرکے پہاڑی کے نیچے، مشرقی ہمالیہ کے جنگلوں میں داخل ہو جاتا ہے۔
’’آپ نے پہلے کبھی اسے نہیں دیکھا ہو گا،‘‘ مغربی کمینگ کے جنگلات میں ۱۳ سالوں سے کام کر رہے جنگلی حیات کے ماہر حیاتیات حیرت زدہ ہو کر کہتے ہیں۔
بھورا غورال (نیمورہیڈس غورال) بھوٹان، چین، شمالی ہندوستان، نیپال اور پاکستان کے ہمالیائی خطے میں پائی جانے والی ایک بووِڈ (جُگالی کرنے والی) نوع ہے۔ لیکن ۲۰۰۸ تک بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ فطرت (آئی یو سی این) نے مسکن کے نقصان اور شکار کی وجہ سے اسے ’’خطرے کے نزدیک‘‘ کے طور پر درج کیا تھا۔
’’وہ ہمیشہ جنگلوں میں کافی اندر رہتے تھے اور باہر آنے سے ڈرتے تھے،‘‘ اُمیش اس نوع کے بارے میں بات کرتے ہیں جو خاص طور پر زیریں ہمالیہ اور شمال مشرقی ہندوستان میں پائے جاتے ہیں اور جہاں انسانوں کی زیادہ موجودگی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔
غورال دیکھنے کے فوراً بعد سنگچنگ کے ایک کسان نیما تسیرنگ مونپا نے ہمیں چائے پیش کی اور ایک اور جانور کے نظارے سے متعلق کچھ معلومات فراہم کیں، ’’چند ہفتے قبل میں نے کھیتوں میں ایک سرخ پانڈا (ٓایلورس فلگینز) دیکھا تھا، جو یہاں سے بہت دور نہیں تھا۔‘‘ سرخ پانڈا ایک زیر خطر نوع ہے جو چین، میانمار، بھوٹان، نیپال اور ہندوستان میں پایا جاتا ہے اور پچھلی تین نسلوں کے دوران اس کی آبادی میں ۵۰ فیصد کی کمی آئی ہے اور آئی یو سی این نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔






















