انبیاء خاتون اپنی سفید رنگ کی بوسیدہ ساڑی کے جامنی پھول والے آنچل سے اپنے بالوں کو ڈھانپنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں، لیکن نومبر کے مہینہ میں چلنے والی تیز ہوا انہیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے سر کو بار بار ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ الجھے ہوئے جوٹ کے ریشوں کو لپیٹنے، موتی پرونے اور گرہیں لگانے کا کام بھی کر رہی ہیں۔ انبیاء اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دلدلی علاقہ کے کنارے واقع ان کے عارضی گھر کے پاس سے گزرنے والے مردوں کی نظریں ان پر جمی ہوئی ہیں۔ بیکی دریا کے کٹاؤ زدہ کناروں پر، خاص طور پر مانسون کے سیلابی دنوں میں، رازداری اور تنہائی تقریباً ناپید ہو جاتی ہے۔
اپنے گھر کے فرش پر بیٹھی انبیاء سِکا (جسے سِگا بھی کہا جاتا ہے) بنا رہی ہیں۔ یہ جوٹ کے ریشوں سے تیار کیے جانے والے آرائشی ہینگر ہوتے ہیں، جن پر برتن، بیج، کپڑے، گدے، بلکہ زیورات تک لٹکائے جاتے ہیں۔ سِکا محض ایک آرائشی چیز نہیں، بلکہ ثقافتی اہمیت رکھنے والا ایک ہنر پارہ ہے، جو آسام کے میاں مسلمانوں اور موجودہ بنگلہ دیش کے دیہی کسانوں میں مقبول ہے۔ سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں سِکا اشیاء کو نمی اور پانی سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
ماہر دستکار انبیاء خاتون (۷۱) اپنے گھریلو کام کاج نمٹانے کے بعد، صبح سویرے سے ہی سِکا بنانے میں مصروف ہیں۔ وہ یہ کام ایک کمرہ کے اپنے ٹن اور پھوس سے بنے گھر کے صحن میں کرتی ہیں، جو سفید کدو کی بیلوں کے سائے میں واقع ہے۔ سبز اور چوڑے پتوں سے ڈھکی بیلوں کے درمیان سے چھن کر آنے والی دھوپ میں رنگ برنگے موتی چمک اٹھتے ہیں، جو ان کی دستکاری کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔
















