یہاں تک پہنچنے کے لیے انھوں نے تقریباً ۹۰۰ کلومیٹر کا سفر کیا ہے، اور اب یہ انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی انھیں روزانہ کی اجرت کے کام کے طور پر اٹھا لے۔ غیریقینی کی صورتحال ان مزدوروں کو گھیرے ہوئی ہے۔ یہ لوگ یہاں تک دو ٹرینیں بدل کر پہنچے ہیں، آندھرا پردیش کے اننتا پور ضلع میں، پُتا پارتھی اور کدیری سے۔ ’’گاؤں میں قحط کا بھی کوئی کام نہیں ہے (یعنی، دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ یا منریگا کے تحت کام)، اور ہم نے پہلے ہی جو کام کر رکھا ہے اس کا بھی پیسہ ہمیں ہفتوں سے نہیں ملا ہے،‘‘ بہت سے کسانوں نے مجھے بتایا۔ اور یہاں پر جو بھی کام بچا ہے، وہ سال بھر کے کام کی حقیقی ڈیمانڈ سے ایک دہائی سے بھی کم ہے۔
اور اسی لیے، سینکڑوں مرد و خواتین ہر ہفتہ کوچی جانے کے لیے گُنٹاکل پیسنجر پر سوار ہوتے ہیں۔ ’’کوچی آنے کے لیے کوئی بھی ٹکٹ نہیں لیتا ہے۔ جاتے وقت، ہم میں سے آدھے لوگ ٹکٹ لیتے ہیں، آدھے نہیں لیتے،‘‘ اننتاپور کے موڈی گُبا منڈل (بلاک) کے مہاجر مزدور، سری نیواسولو بتاتے ہیں۔















