گزشتہ ۱۳ برسوں سے نَورادیہی جنگلاتی حیات کی پناہ گاہ (وائلڈ لائف سینکچوری) میں بطور وَن رکشک کام کر رہے تاراچند گونڈ نے بھیڑیوں (انڈین گرے وولف) کے بجائے اس علاقہ میں شیروں (ٹائیگرز) کو کہیں زیادہ تعداد میں منڈلاتے دیکھا ہے۔ تقریباً ۳۴ سالہ تاراچند اس المیہ پر مسکراتے ہیں، اس دوران چشمے کے پیچھے سے جھانکتی ان کی آنکھیں چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
انہیں اس لیے حیرانی ہوتی ہے، کیوں کہ وہ ہندوستان کے سب سے پرانے اُس پارک میں کھڑے ہو کر یہ بات کر رہے ہیں، جو خاص طور پر معدومیت کے شکار بھیڑیوں کے لیے بنا ہے؛ یہاں شیر تو حال ہی میں، یعنی سال ۲۰۱۸ میں لائے گئے تھے۔ انڈین گرے وولف (کینیس لوپَس پیلی پیس) بر صغیر ہند میں پائی جانے والی بھیڑیوں کی ایک بہت پرانی نسل ہے، لیکن انہیں دیکھ پانا کافی مشکل ہے۔ ملک میں بھورے رنگ کے ان بھیڑیوں کی تعداد صرف تین ہزار کے آس پاس ہے، جو ۲۰۲۲ میں ہوئی شیروں کی گنتی (۳۶۸۲) سے بھی کم ہے۔
تاراچند کو آج بھی یاد ہے کہ انہوں نے گرے وولف کو پہلی بار کب دیکھا تھا۔ تاراچند، جو ایک گونڈ آدیواسی ہیں، بتاتے ہیں، ’’جنگل میں گشت لگانا شروع کرنے کے دو سال بعد میں نے پہلی بار بھیڑیا دیکھا تھا۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں، ’’میں بھرائی سرکل میں ایک سینئر رینجر کے ساتھ تھا، تبھی دور سے ہمیں یہ جانور دکھائی دیا۔ وہ ہم سے دور بھاگ رہا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا جانور ہے، تو انہوں نے کہا، ’یہ بھیڑیا ہے‘۔ یہی وہ جانور ہے، جس کے لیے یہ پناہ گاہ (سینکچوری) بنائی گئی ہے۔‘‘
نورادیہی میں کافی لمبے وقت تک صرف بھیڑیے ہی بڑے شکاری رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کی جنوبی وندھیہ پہاڑیوں میں پھیلے اس جھاڑی دار جنگل کے وہ ایک طرح سے مالک ہوا کرتے تھے۔ بھیڑیے کافی شرمیلے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دیکھ پانا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے اور اکثر لوگ انہیں سِیار سمجھ لیتے ہیں۔ سُرکشا شرمک (جنگل کے چوکیدار) شُبھم رائکوار کہتے ہیں، ’’اگر کبھی دکھائی بھی دیتے ہیں، تو بھاگتے ہوئے یا تو ان کی پیٹھ دکھائی دیتی ہے یا پھر ہم بغل سے ان کی بس ایک جھلک ہی دیکھ پاتے ہیں۔‘‘
تقریباً ۷۰۰ بھیڑیوں کے ساتھ مدھیہ پردیش کسی بھی ریاست کے مقابلے سب سے زیادہ بھیڑیوں والی ریاست ہے۔ اس کے باوجود، ’’اسے کیمرے میں قید کرنا یا اپنی آنکھوں سے دیکھ پانا بہت مشکل ہے۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں، بھیڑیا شیر سے بھی زیادہ چالاک ہوتا ہے!‘‘ یہ کہنا ہے ڈاکٹر انیرودھ مجومدار کا۔ وہ جبل پور میں واقع اسٹیٹ فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں وائلڈ لائف بائیولوجسٹ ہیں اور نورادیہی وائلڈ لائف ڈویژن میں چار سال کے ایک پروجیکٹ کے تحت بھیڑیوں کے برتاؤ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کا نام ہے: ’’ایکولوجی آف دی انڈین وولف اینڈ اِٹس کنزرویشن امپلی کیشنز اِن نورادیہی وائلڈ لائف ڈویژن۔‘‘













