’’اِتھے روٹی کَتھ مِلدِی ہے، چِٹّا سرعام مِلدَا ہے [یہاں کھانے کی قلت ہے، لیکن ہیروئن آسانی سے دستیاب ہے]۔“
ہر ونس کور کا اکلوتا بیٹا منشیات کا عادی ہے۔ ’’ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ آج بھی جھگڑا کرتا ہے، سارے پیسے لے جاتا ہے اور نشہ آور چیزوں پر خرچ کر دیتا ہے،‘‘ یہ کہنا ہے ۲۵ سال کے ایک نوجوان لڑکے کی بے بس ماں کا، جو حال ہی میں باپ بنا ہے۔ ہروَنس بتاتی ہیں کہ ان کے گاؤں میں چِٹاّ (ہیروئن)، انجکشن اور نشہ آور دواؤں کی گولیاں آسانی سے دستیاب ہیں۔
’’اگر حکومت چاہے تو نشیلی دواؤں کے غلط استمعال کو روک سکتی ہے، ورنہ ہماری اولادیں تباہ ہو جائیں گی۔ ہرونس کور ایک دِہاڑی مزدور ہیں، جو راؤکے کلاں گاؤں میں آلو کے گودام میں مزدوری کرتی ہیں۔ ان کو آلو کی ایک بوری بھرنے کے عوض ۱۵ روپے ملتے ہیں اور وہ دن میں تقریباً ۱۲ بوریاں بھر لیتی ہیں۔ نتیجاً روزانہ تقریباً ۱۸۰ روپے ان کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ ان کے شوہَر سکھدیو سنگھ جو ۴۵ سال کے ہیں، نہال سنگھ والا کے ایک گودام میں یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ یہ جگہ ان کے گاؤں ننگل سے ۴ کلومیٹر دور ہے۔ کام دستیاب ہونے پر وہ بھی گیہوں اور چاول کی بوریاں بھرتے ہیں، جس سے انہیں روزانہ ۳۰۰ روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ ان کی اسی آمدنی پر پورے گھر کا خرچ چلتا ہے۔
پنجاب کے موگا ضلع کے اس گاؤں میں ان کی پڑوسن کرن کور سیدھے اصل بات پر آتے ہوئے کہتی ہیں، ’’جو بھی ہمارے گاؤں سے منشیات کے خاتمہ کا وعدَہ کرے گا، ہم اسی کو ووٹ دیں گے۔‘‘
ظاہر ہے کہ کرن کی صاف گوئی ان کے شوہر کے نشہ کا عادی ہونے سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے دو بچے ہیں – ایک ۳ سال کی بیٹی اور دوسرا چھ مہینے کا بیٹا۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے شوہر ایک دِہاڑی مزدور ہیں اور منشیات کے عادی ہیں۔ وہ گزشتہ تین سالوں سے اس میں مبتلا ہیں۔ جو بھی کماتے ہیں، نشہ آور دواؤں پر اڑا دیتے ہیں۔‘‘









