میرا نام ایس کیرتی ہے۔ میں تینکاسی ضلع میں گورنمنٹ ماڈل اسکول میں ۱۲ویں جماعت میں پڑھتی ہوں۔ مجھے اپنے اسکول کے ذریعہ ہی ایک سال کے فوٹوگرافی ورکشاپ میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ آپ یقین کیجئے، اس سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ تصویریں صرف شادیوں اور بڑے پروگراموں میں ہی کھینچی جاتی ہیں۔ پہلی بار مجھے سمجھ آیا کہ تصویروں کے ذریعہ ہمارے جیسے محنت کش طبقہ کے لوگوں کی زندگی اور جدوجہد کو بھی درج کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ ہمیں اپنے وقار کے ساتھ اپنی کہانی بیان کرنے کا موقع دیتا ہے۔
ایک دن ورکشاپ کے معاون کار نے مجھے محنت کش طبقہ کی زندگی سے متعلق ہونے والی ایک فوٹو نمائش کے بارے میں بتایا اور میرے ہاتھوں میں کیمرہ پکڑا دیا۔ اگلے تین دنوں تک مجھے تصویروں کے ذریعہ لوگوں کی زندگی کو درج کرنے کی کوشش کرنی تھی۔ میں بالکل الجھ گئی تھی۔ پہلے دن مجھے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیمرہ کیسے چلاؤں یا کس موضوع پر فوٹو ڈاکیومنٹری بناؤں۔ تبھی مجھے اپنے ٹرینر کے الفاظ یاد آئے، ’’کبھی کسی کہانی کے لیے، کہیں اور…بہت دور جھانکو۔ کہانی ہمیشہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے۔‘‘
مجھے ورکشاپ میں پڑھی جانے والی ایک اسٹوری یاد آئی: میری ماں کی زندگی – ایک لیمپ پوسٹ کی روشنی میں۔ اور میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنی ماں کی زندگی سمجھوں اور ان کی جدوجہد کو درج کروں؟ اس دوران میں نے اپنی ماں سے بہت ساری باتیں کیں، انہیں صبح سے لے کر دیر رات تک کام کرتے دیکھا۔ اسی ڈاکیومنٹری کے ذریعہ سمجھے سمجھ آیا کہ میری ماں کی زندگی کتنی مشکل ہے۔ ان کا نام ایس مُتّولکشمی ہے اور ان کی عمر تقریباً ۴۲ سال ہے۔ وہ کافی ہمت ور اور بے خوف خاتون ہیں۔
انہوں نے ہمارے لیے اپنے خواب قربان کر دیے۔ پہلے میرے والد گاؤں میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ جب وہ کم عمر کے تھے تو وہ اکثر کام کی تلاش میں باہر جایا کرتے تھے۔ پھر میری دادی نے ۲۰۰۰ روپے قرض لے کر انہیں دیے، تاکہ وہ گاؤں میں ہی اپنی دکان کھول سکیں۔ وہ اپنی سائیکل پر پاس کے گاؤں سے سامان لاد کر لاتے اور اپنی دکان پر بیچتے۔ یہ ۱۹۹۷ کی بات ہے۔
لیکن ۲۰۱۶ میں ایک بہت برا حادثہ ہوا۔ ماں کو ایم ایس آفس سیکھتے ہوئے دو مہینے ہی ہوئے تھے، جو وہ پاس کے گاؤں میں سیکھنے جاتی تھیں۔ وہ کالج بھی جانا چاہتی تھیں اور تمل میں بی اے [گریجویشن] کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن تبھی میرے والد، بھائی اور میں ایک حادثہ کا شکار ہو گئے۔ والد کی ٹانگ بری طرح زخمی ہو گئی اور انہیں آپریشن کی ضرورت پڑی۔ مجھے اور میرے بھائی کو پیروں پر تھوڑی سی خراش آئی تھی۔ اس وقت ماں کے پاس والد کی سرجری کرانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن انہوں نے کسی طرح رشتہ داروں سے قرض لے کر اور اپنے کچھ زیورات گروی رکھ کر تین لاکھ روپے کا انتظام کیا۔ مگر اس کا مطلب تھا کہ ان کے سر پر ذمہ داریاں اور بڑھ گئی تھیں۔
اُس حادثہ نے ان کی آرزوؤں اور خوابوں پر روک لگا دی۔ انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ ان سب کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہیں۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتی رہیں کہ اپنی فیملی سے محبت کرنا ان کا فرض ہے۔ انہوں نے خود کو ایک راز بنا لیا تھا۔ اسی لیے میں نے ان کی زندگی پر اسٹوری کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب میں نے فوٹو ڈاکیومنٹری اسکول میں جمع کی اور وہ چنئی میں نمائش کے لیے منتخب ہو گئی، تو میرے والدین مجھ پر بہت فخر محسوس کر رہے تھے۔ میرے والد ہمیشہ سے فوٹوگرافی سیکھنا چاہتے تھے۔ وہ میرے کام کو لے کر بہت پرجوش تھے۔
میں جب نمائش ہال میں پہنچی تو سب سے پہلے میں نے بینر پر اپنی ماں کی تصویر دیکھی۔ میرا دل بھر آیا۔ وہاں بہت سے فنکار، صحافی اور فوٹوگرافر، یہاں تک کہ کچھ غیر ملکی بھی موجود تھے۔ ان میں سے کچھ نے پوسٹ کارڈ پر میرا آٹوگراف لیا۔ کئی لوگوں نے میرے کام کی تعریف کی اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ لیکن دو لوگ، جو میری نمائش دیکھنے نہیں آ پائے تھے، وہ میرے والدین تھے۔ جب نمائش ختم ہو رہی تھی، تو میں جانتی تھی کہ میری ماں گھر پر کام کاج میں مصروف ہیں اور اپنی جدوجہد بھری زندگی کو ویسے ہی جی رہی ہیں۔
مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب میں نے ہاتھ میں کیمرہ لیے اپنی ماں کی پہلی تصویر کھینچی تھی تو اسے دیکھ کر ماں کے چہرے پر خوشی اور جذبات کی لکیریں امنڈ آئی تھیں۔
























