’’فلم میں ہونا چاہیے لو اسٹوری، کچھ جذباتی سا [فلم کی کہانی عشقیہ اور جذباتی ہونی چاہیے]،‘‘ شیام سنگھ (۳۶ سالہ) کہتے ہیں، جو ممبئی کے گرانٹ روڈ علاقہ میں واقع سنگل اسکرین سینما گھر، الفریڈ ٹاکیز کے باہری ہال میں بیٹھے ہیں۔ ’’لڑائی اور ایکشن کے مناظر تو ٹھیک ہیں، لیکن مجھے عشقیہ کہانی پسند ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے مزید کہتے ہیں۔
یہ دسمبر کی دوپہر ہے، دھوپ کھلی ہوئی ہے اور شیام دوپہر ۳ بجے کے شو کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بلاک بسٹر فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ کا ہاتھ سے پینٹ کیا ہوا بینر عمارت کے دروازے پر لٹکا ہوا ہے۔ بالی ووڈ کی یہ کامیاب فلم تقریباً چار دہائی قبل ۱۹۸۵ میں ریلیز ہوئی تھی، اور اب بھی ناظرین کی خاصی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
الفریڈ ٹاکیز کے داخلی دروازہ پر لگے ایک بورڈ پر ہندی اور اردو میں لکھا ہے ’’روزانہ ۳ کھیل‘‘۔ اس بورڈ پر تین شوز کی روزانہ اسکریننگ کے شیڈول کی تشہیر کی جاتی ہے: پہلا شو دوپہر کو، دوسرا سہ پہر ۳ بجے اور آخری شام ۶ بجے۔
’’ہمیں مووی (فلمیں) دیکھنے کا شوق ہے،‘‘ شیام کہتے ہیں، جو تین سال پہلے بہتر اجرت کی تلاش میں نیپال سے ممبئی ہجرت کر کے آئے تھے۔
’’الفریڈ ٹاکیز میں ٹکٹ سستے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’اس لیے ہم جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں۔‘‘ یہاں ایک ٹکٹ کی قیمت ۳۵ روپے ہے۔ ’’میری اتنی کمائی نہیں ہوتی کہ میں مہنگے تھیٹروں میں جا کر فلمیں دیکھ سکوں۔‘‘
شیام برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں ایک کنٹریکٹ ورکر ہیں اور کیٹرنگ میں کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں تقریبات کے لیے چیزیں تیار کر کے پیش کرنا اور صفائی کرنا شامل ہیں۔ وہ گرانٹ روڈ علاقہ کے قریب رہتے ہیں اور تقریباً ۹۰۰۰ روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ ان کی فیملی نیپال کے بُٹوَل شہر میں مقیم ہے۔


















