منتی مارڈی ایک پرفضا ماحول میں رہتی ہے۔ اجے ندی اس کے گھر کے قریب سے بہتی ہے، اور ریلوے ٹریک تک پہنچنے کے لیے اسے کمل کے تالابوں کو پار کرنا پڑتا ہے۔
لیکن ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں کی تپ دق کے ساتھ پیدا ہونے والی یہ پانچ سالہ منتی صرف دور سے ہی یہ نظارہ دیکھ سکتی تھی۔ وہ مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں واقع اپنے گاؤں مہولا کے ارد گرد چہل قدمی کرنے یا گھومنے پھرنے سے قاصر تھی۔
’’اس کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید خرابی پیدا ہوگئی تھی،‘‘ اس کی دادی جبا مارڈی یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔ ’’اسے اس قدر تکلیف تھی کہ ہمیں نہیں لگتا تھا کہ وہ زندہ بچے گی۔‘‘
سنتھال (جسے سنتال بھی کہا جاتا ہے) ریاست کی آدیواسی آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، اور تقریباً مکمل طور پر دیہی علاقوں میں آباد ہیں۔ یہ لوگ اپنی طبی ضروریات کے لیے مقامی ڈاکٹروں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس ریاست میں صحت کی نگہداشت کی سہولیات، جیسے پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی)، میں ملازمین کی شدید کمی ہے (دیہی صحت کی شماریات۲۰۲۱-۲۲)۔
جب ننھی منتی کو سانس کی شدید تکلیف ہونے لگی تو اس کے گھر والوں نے مقامی ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ آیا وہ سند یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر ہے یا نہیں۔ بیر بھوم ضلع کے سیوڑی-۱ بلاک کے اس دور افتادہ علاقے میں ان کے لیے یہ جاننا ناممکن تھا۔ جبا کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ کسی قابل ڈاکٹر کی خدمات کہاں سے حاصل کی جائے۔


