گنگو بائی چوہان کو پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے گڑگڑانا پڑتا ہے۔ ’’سرکار! چوکیدار صاحب! پینے کے لیے تھوڑا سا پانی دے دیجئے۔ ہم یہیں رہتے ہیں، حضور۔‘‘
لیکن، صرف گڑگڑانے سے کام نہیں چلتا ہے۔ انہیں یہ یقین بھی دلانا پڑتا ہے کہ ’’میں آپ کے کسی بھی برتن کو ہاتھ نہیں لگاؤں گی۔‘‘
گنگو بائی (بدلا ہوا نام) کو پانی کے لیے پرائیویٹ نلوں، چائے کی دکانوں، اور بارات گھروں پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ وہ ناندیڑ شہر کے گوکل نگر علاقے میں فٹ پاتھ پر رہتی ہیں۔ پانی حاصل کرنے کے لیے، انہیں اپنے ’گھر‘ کے دوسری طرف بنے ہوٹل اور اس جیسی دیگر عمارتوں کے چوکیداروں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ کام انہیں روزانہ کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ پانی تو روز چاہیے۔
ان کا تعلق پھانسے پاردھی قبیلہ سے ہے، جسے انگریزوں کی نو آبادیاتی حکومت کے دوران ’مجرم قبائل‘ کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔ اسی لیے، وہ جب بھی پانی کی تلاش میں نکلتی ہیں انہیں لوگوں کے عتاب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ حالانکہ، ہندوستانی حکومت نے ۱۹۵۲ میں انگریزوں کے اس سیاہ قانون کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن ۷۰ سال گزر جانے کے بعد گنگو بائی جیسے لوگوں کو آج بھی اپنے بنیادی حقوق کی لڑائی لڑنی پڑ رہی۔ وہ جب دوسرے لوگوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہتی ہیں کہ وہ چور نہیں ہیں، تب کہیں جا کر انہیں ایک ڈبہ پانی مل پاتا ہے۔
گنگو بائی بتاتی ہیں، ’’جب ہم ان سے کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہاں رکھی آپ کی کسی بھی چیز کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا ہے‘ تب جا کر وہ ہمیں تھوڑا سا پانی دے دیتے ہیں۔‘‘ اجازت ملنے کے بعد، جہاں تک ممکن ہو سکے وہ چھوٹے کنٹینر، پلاسٹک کے ڈبوں اور پانی کی بوتلوں کو بھرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر کسی ہوٹل میں انہیں پانی بھرنے سے منع کر دیا جاتا ہے، تو وہ ہوٹل مالک کی بدسلوکی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسرے ہوٹل کا رخ کرتی ہیں؛ اکثر انہیں چار پانچ جگہوں کے چکّر لگانے پڑتے ہیں تب جا کر کسی کو ان کے اوپر رحم آتا ہے اور وہ پینے، کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے پانی حاصل کر پاتی ہیں۔
















