کیا کسی پروجیکٹ کی کامیابی کا اندازہ اس کے مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر لگایا جا سکتا ہے؟
ہاں، اگر یہ دنیا کے سب سے پیچیدہ دیہی علاقوں کا ایک زندہ آرکائیو ہو۔ دیہی ہندوستان کئی معنوں میں اس سیارہ کا سب سے متنوع حصہ ہے۔ اس کے ۸۳۳ ملین (۳ء۸۳ کروڑ) لوگوں میں تقریباً ۸۰۰ زبانیں بولنے والے منفرد معاشرے شامل ہیں۔ یہ تنوع پیشوں اور ذریعہ معاش، فن اور دستکاری، ثقافت، ادب، قصے کہانیوں، نقل و حمل، اور بے شمار دیگر شعبوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس کا احاطہ پاری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
دور حاضر میں جب اشتہارات اور نامور شخصیات پر مرکوز ’مین اسٹریم‘ میڈیا کے ذریعے دیہی علاقوں کا احاطہ شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے – ایسے میں اگلے ۲۵ سے ۵۰ سالوں کے بعد اگر کوئی ہندوستانی یہ جاننا یا سمجھنا چاہے گا کہ ہمارے دور میں دیہی ہندوستان کے لوگ کیسے زندگی بسر کرتے تھے اور کیسے کام کرتے تھے، تو اس کے لیے ان کے پاس پاری کی شکل میں واحد ڈیٹا بیس، ایک اکیلا آرکائیو ہوگا۔ ساتھ ہی، یہ ایک عصری، زندہ جریدہ ہے جو عام لوگوں کی روزمرہ کی کہانیوں کا احاطہ کرتا ہے۔
پیپلز لنگوئسٹک سروے آف انڈیا (جائزہ لسانیات ہند) میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تقریباً ۸۰۰ زبانیں بولی جاتی ہیں اور مختلف قسم کے ۸۶ رسم الخط کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن ۷ویں جماعت تک کی تعلیم میں، ان ۸۰۰ میں سے صرف ۴ فیصد کا ہی احاطہ کیا جا رہا ہے۔
پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا پر فی الحال ۱۵ زبانوں میں مضامین شائع کیے جاتے ہیں، جنہیں ۱۲۰ کروڑ ہندوستانی بولتے ہیں اور انہیں اپنی پہلی زبان بتاتے ہیں۔
دستور ہند کے آٹھویں شیڈول میں ۲۲ زبانیں شامل کی گئی ہیں، جن کو فروغ دینے کی ذمہ داری ملک کی حکومت پر ہے۔ لیکن ایسی بھی ریاستیں ہیں جن کی سرکاری زبانیں ان ۲۲ سے باہر ہیں، جیسے کہ میگھالیہ کی کھاسی اور گارو۔ آٹھ ہندوستانی زبانوں میں سے ہر ایک کو بولنے والے ۵ کروڑ یا اس سے زیادہ ہیں۔ تین زبانوں کو ۸ کروڑ یا اس سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ ایک زبان کو بولنے والے تو تقریباً ۵۰ کروڑ لوگ ہیں۔ وہیں دوسری طرف، انوکھی قبائلی زبانیں ہیں، جنہیں کم از کم ۴۰۰۰ لوگ بولتے ہیں، کچھ کو بولنے والے اس سے بھی کم ہیں۔ صرف مشرقی ریاست اوڈیشہ میں تقریباً ۴۴ آدیواسی زبانیں ہیں۔ لسانی سروے کے مطابق، گزشتہ ۵۰ برسوں میں تقریباً ۲۲۰ زبانیں غائب ہو چکی ہیں۔ تریپورہ کی سائیمار زبان کو بولنے والے اب صرف پانچ لوگ بچے ہیں۔
ہندوستان کا دیہی علاقہ چونکہ نہایت تکلیف دہ تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے، لہٰذا ان کی بہت سی منفرد خصوصیات ختم ہوتی جا رہی ہیں، اور ہم غریب ہوتے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہندوستان میں بُنائی کے جتنے طریقے اور اسٹائل ہیں وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتے۔ ان میں سے بہت سی روایتی بنکر برادریاں خاتمہ کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں، جس سے دنیا کی یہ بہترین کاریگری ختم ہو جائے گی۔ کچھ انوکھے کام، جیسے پیشہ ور داستان گو، رزمیہ گیت گانے والے بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
پھر ایسے پیشے بھی ہیں جن کے بارے میں کچھ ہی ملکوں کو معلوم ہے۔ جیسے پاسی جو روزانہ تاڑ کے ۵۰ درختوں پر چڑھتے ہیں، ہر موسم میں روزانہ تین بار۔ اس کے رس سے وہ گُڑ بناتے ہیں یا پھر دیسی شراب، جسے تاڑی کہا جاتا ہے۔ پیک سیزن میں، ایک پاسی روزانہ نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے زیادہ کی اونچائی چڑھتا ہے۔ لیکن بہت سے پیشے اب ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ مٹی کا برتن بنانے والے کمہار، دھات کا کام کرنے والے اور لاکھوں اسی قسم کے ماہر دستکار تیزی سے اپنا ذریعہ معاش کھو رہے ہیں۔
جو چیزیں دیہی علاقوں کو منفرد بناتی ہیں، ان میں سے بہت سی چیزیں ۳۰-۲۰ سالوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔ ان کا کوئی سلسلہ وار بصری یا زبانی ریکارڈ نہیں ہے، جو ہمیں اس شاندار تنوع کو بچانے کے لیے بیدار یا کم از کم آمادہ کر سکے۔ ہم ایک پوری دنیا اور دیہی ہندوستان کے اندر کی آوازوں کو کھو رہے ہیں، جس کے بارے میں آنے والی نسلیں بہت کم یا کچھ بھی نہیں جان پائیں گی۔ حالانکہ، موجودہ نسل بھی اُس دنیا سے بڑی تیزی سے اپنا رشتہ توڑ رہی ہے۔
دیہی ہندوستان میں یقیناً ایسا بہت کچھ ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ایسی چیزیں جو ظالمانہ ہیں، جابرانہ ہیں، رجعت پسند اور سفاک ہیں، انہیں ضرور ختم ہونا چاہیے۔ چھوا چھوت، جاگیرداری، بندھوا مزدوری، ذات اور صنف کی بنیاد پر ظلم و استحصال، زمینوں پر ناجائز قبضہ وغیرہ بند ہونا چاہیے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس وقت جس قسم کی تبدیلی ہو رہی ہے وہ زیادہ تر جابرانہ اور وحشیانہ ہیں، جب کہ بہتر چیزوں اور تنوع کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کا احاطہ کرنا بھی پاری کے مینڈیٹ کا حصہ ہے اور انہیں یہاں درج کیا جائے گا۔
یہیں پر پاری کا رول شروع ہوتا
پاری ایک زندہ جریدہ اور آرکائیو دونوں ہے۔
ہم عصر حاضر کے دیہی علاقوں کی تازہ رپورٹنگ کرتے ہیں اور اور اسے ہوسٹ کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی پہلے سے شائع اسٹوریز، رپورٹ، ویڈیو اور آڈیو کا ڈیٹا بیس – جتنے بھی ذرائع سے حاصل ہو سکیں – تیار کر رہے ہیں۔ پاری کے سبھی مواد تخلیقی العام (کرئیٹو کامنز) کے تحت آتے ہیں اور اس سائٹ کا مفت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی انسان پاری میں اپنا تعاون دے سکتا ہے۔ ہمارے لیے لکھیں، ہمارے لیے شوٹ کریں، ہمارے لیے ریکارڈ کریں۔ آپ کے مواد (کانٹینٹ) کا خیرمقدم ہے – بشرطیکہ وہ اس سائٹ کے معیاروں اور ہماری شرطوں کے مطابق ہوں، یعنی: عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی۔
ہندوستان میں بہت سی لائبریریوں اور میوزیم کے استعمال میں کمی آئی ہے، خاص کر گزشتہ ۲۰ برسوں میں۔ آپ کو جو کچھ میوزیم میں دیکھنے کو مل سکتا تھا، وہی آپ کو ہمارے یہاں بھی مل سکتا ہے: وہی چھوٹی پینٹنگ کے اسکول، سنگ تراشی کی وہی روایتیں۔ اب وہ بھی معدوم ہو رہے ہیں۔ نوجوان پہلے کے مقابلے اب لائبریری اور میوزیم میں کم جاتے ہیں۔ لیکن، ایک جگہ ایسی ہے جہاں پوری دنیا کی آئندہ نسل، جس میں ہندوستانی بھی شامل ہیں، زیادہ سے زیادہ جائے گی: اور وہ ہے انٹرنیٹ۔
لاکھوں افراد جو مالی اعتبار سے زیادہ خوشحال نہیں ہیں ان کے درمیان براڈ بینڈ انٹرنیٹ کا استعمال ہندوستان میں ابھی بھی کم ہے، لیکن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ [آخری ڈائل اَپ کنکشن کو مارچ ۲۰۲۱ میں بند کر دیا گیا تھا]۔ عوامی وسیلہ کے طور پر ایک زندہ جریدہ اور آرکائیو بنانے کی یہ صحیح جگہ ہے، جس کا مقصد لوگوں کی زندگی کو ریکارڈ کرنا ہے۔ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا۔ بہت ساری دنیا، ویب سائٹ ایک۔ ہم امید کرتے ہیں کہ الگ الگ آوازیں اور الگ الگ زبانیں ایک ساتھ، ایک جگہ پر آتی رہیں گی۔ پہلے کبھی کسی ایک ویب سائٹ پر ایسا نہیں ہوا ہوگا۔
اس کا مطلب ہے بڑے پیمانے پر آڈیو، وژوئل اور ٹیکسٹ پلیٹ فارم کی بے شمار شکلوں کا استعمال کرنا۔ جہاں تک ممکن ہو اور ہم جہاں تک انتظام کر سکتے ہیں، پاری پر کہانیوں، کام، سرگرمی، تواریخ کو دیہی ہندوستان کے باشندوں کے ذریعے خود بیان کیا جائے گا۔ کھیتوں کے درمیان چائے کی پتی توڑنے والوں کے ذریعے۔ سمندر میں مچھلی پکڑنے والوں کے ذریعے۔ کھیتوں میں دھان کی بوائی کرتے وقت گانا گا رہی عورتوں کے ذریعے، یا روایتی داستان گو کے ذریعے۔ کھلاسی مردوں کے ذریعے، جو صدیوں پرانے طریقوں کا استعمال کرکے سمندر میں بھاری جہازوں کو اتارتے ہیں، وہ بھی مشین اور کرین کے بغیر۔ مختصراً یہ کہ عام لوگ خود اپنے بارے میں بات کریں گے، اپنی محنت اور زندگی کے بارے میں بتائیں گے، ہمیں اس دنیا کے بارے میں بتائیں گے جسے ہم یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
امریکی کانگریس کی لائبریری نے ۲۵ اپریل، ۲۰۲۰ کو پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کو ایک بیش قیمتی وسیلہ کے طور پر تسلیم کیا اور پاری کو اپنی ویب سائٹ اور ڈیٹا بیس پر ریکارڈ اور آرکائیو کرنے کے لیے خط لکھ کر ہم سے اس کی اجازت مانگی۔
پاری پر کیا کیا موجود ہے
پاری ویڈو، فوٹو، آڈیو اور ٹیکسٹ آرکائیو کو ہوسٹ اور جمع کرتا ہے۔ اور یہ صحافت کی ایک عصری ویب سائٹ ہے۔
انگریزی زبان کے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم کے طور پر ۲۰ دسمبر، ۲۰۱۴ کو شروع ہونے والی ہماری یہ ویب سائٹ اب ۱۵ زبانوں میں دستیاب ہے، جسے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پیج ویو حاصل ہوتے ہیں – حالانکہ یہ کوئی نئی سائٹ نہیں ہے۔
نیچے پاری کی کچھ انفرادی کوششوں کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔ یہ ۱۲ کی فہرست کسی بھی طرح مکمل نہیں ہے اور نہ ہی پاری کے کاموں کی مکمل عکاسی کرتی ہے، البتہ پاری پر جو کچھ دستیاب ہے اس کی ایک جھلک ضرور پیش کرتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی
پاری کا ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کا پروجیکٹ کئی زرعی و ماحولیاتی خطوں (اور ۳۰ سے زیادہ علاقوں اور ذیلی علاقوں) پر مبنی ہے۔ سال ۲۰۲۰ کے آخر میں اس کی باقاعدہ شروعات ہوئی تھی۔ اس موضوع کے تحت ۳۰ سے زیادہ اسٹوریز شائع ہو چکی ہیں اور پاری کو اس کی ماحولیاتی سیریز کے لیے اب تک چار ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارا طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے – اور وہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ہماری تمام اسٹوریز عام لوگوں کی آوازوں، اور ان کی زندگی کے تجربات پر مبنی ہیں۔ ان میں کاشتکار، مزدور، ماہی گیر، خانہ بدوش چرواہے، سمندری گھاس اکٹھا کرنے والے، شہد جمع کرنے والے، کیڑے پکڑنے والے وغیرہ شامل ہیں۔ ہم نے پہاڑوں کے نازک ماحولیاتی نظام، جنگلات، سمندر، ساحلی علاقوں، مرجان کی چٹانوں والے جزیرے، ریگستانوں، خشک اور نیم خشک علاقوں کا احاطہ کیا ہے۔
عام لوگوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ ہماری اسٹوریز میں سائنس اور سائنسدانوں کی باتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ہندوستان کے سرکردہ ماحولیاتی سائنسداں اکثر آب و ہوا کے اثرات کے سلسلے میں عام لوگوں کی زندگی کے تجربات سے براہ راست سبق حاصل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ اسٹوری: ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ کیڑوں کی جنگ۔
روایتی میڈیا میں اسے بہت ہی تجریدی اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ کور کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ قارئین کی زندگی سے دور لگتا ہے۔ مثال کے طور پر، انٹارکٹک کی برف کا پگھلنا، یا ایمیزون جنگلات کی کٹائی، یا آسٹریلیا کی جھاڑیوں میں آگ لگنا۔ یا بین حکومتی میٹنگوں کو جس طرح بیان کیا جاتا ہے، انہیں پڑھنے میں قارئین کو بوریت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن پاری کی ماحولیاتی رپورٹنگ میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے قارئین مسئلہ کو پہچانیں اور اسے اپنی زندگی سے جڑا ہوا محسوس کریں۔
لائبریری
پاری کی لائبریری اس لحاظ سے منفرد ہے کہ ہم نہ صرف کتابیں مہیا کراتے ہیں – بلکہ آپ کو یہ کتابیں مفت فراہم کرتے ہیں۔ ہم آپ کو نہ صرف ان کے لنک دیتے ہیں، بلکہ دیہی علاقوں سے متعلق ہر وہ اہم رپورٹ، مطالعہ، سروے، دستاویز اور کتاب کا پورا متن بھی فراہم کرتے ہیں جو ہمیں الیکٹرانک شکل میں مل جائیں یا ہم اپنی طرف سے جن کی ڈیجیٹ کاری کر سکیں۔ پاری کی لائبریری میں موجود ہر چیز مناسب اظہار تشکر اور کریڈٹ کے ساتھ مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔
لائبریری کا حصہ پاری کے ذریعے ایسی رپورٹوں اور مطالعات کا آن لائن ذخیرہ تیار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ لائبریری کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے ہر رپورٹ، مطالعہ یا کتاب کے ساتھ ’فوکس اور ہائی لائٹس‘ کے نام سے اس کا خلاصہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ یہ رضاکاروں کی بڑھتی ہوئی ٹیم کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے (جن کی تعداد فی الحال ۳۲۰ سے زیادہ ہے، اور ان میں سے ۵۰-۴۰ ہر وقت فعال رہتے ہیں)۔
پاری کی لائبریری سے آپ سرکاری سروے، غیر سرکاری تنظیموں کی آزاد رپورٹس، مردم شماری سے متعلق تاریخی رپورٹس اور شاہی گزٹ، مسودہ بل، قوانین اور آئینی ترامیم، سپریم کورٹ کے فیصلے، کاپی رائٹ سے آزاد ادب (بالغوں اور بچوں کے لیے)، اسکین کی ہوئی کتابیں اور ای-بُکس، تحقیقی مقالے، میگزین کے شمارے وغیرہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
کسانوں کا احتجاج
کسانوں کی جدوجہد، زرعی بحران وغیرہ کے بارے میں پاری پر سینکڑوں اسٹوریز موجود ہیں۔ پاری پر یہ اسٹوریز پہلے دن سے ہی شائع کی جانے لگی تھیں۔ حالانکہ، ہم نے یہ سوچا کہ کسانوں نے حکومت کے ذریعے ۲۰۲۰ میں پاس کیے گئے تین قوانین کے خلاف جو لڑائی چھیڑی ہے، اس کا الگ سے ایک گوشہ ہونا چاہیے – کیوں کہ حالیہ برسوں میں انصاف کی مانگ کے لیے پوری دنیا میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا، پر امن، آئینی احتجاج تھا – وہ بھی ایسے وقت میں، جب کووڈ وبائی مرض اپنے عروج تھا۔
ملاحظہ کریں- زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے: مکمل کوریج۔ براہ کرم پہلے کے احتجاج سے متعلق بھی کچھ اسٹوریز ملاحظہ کریں – جیسے کہ ۲۰۱۸ میں ناسک سے ممبئی تک کسانوں کا لمبا مارچ۔
چہرے
یہ ہندوستان کے چہرے سے متعلق تنوع کی پہلی اور واحد نقشہ سازی ہے، جسے ملک گیر سطح پر اتنے منظم طریقے سے کسی اور نے نہیں کیا ہے۔ اسے شروع کرنے کے پیچھے کی کہانی یہ ہے کہ سال ۲۰۱۴ میں دہلی میں اروناچل پردیش کے ایک نوجوان طالب علم، نیدو تانیا کو پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا تھا اور صحافیوں نے جب حملہ آوروں سے اسے پیٹنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس کا چہرہ ’’چینیوں جیسا‘‘ تھا۔ ایسے میں سوال یہی اٹھتا ہے کہ، کون ہندوستانی دکھائی دیتا ہے؟ کیا کوئی ’ہندوستانی شکل‘ بھی ہے؟
ابھی تک کا ہمارا یہ سفر بتاتا ہے کہ ’ہندوستانی شکل‘ جیسی چیز موجود ہے – ان کی تعداد ۱۴۰ کروڑ ہے۔ پاری کے فوٹوگرافر ملک کے ہر ضلع، ہر بلاک سے ہمیں تصویریں بھیج رہے ہیں، جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے دوران ذریعہ معاش
پاری نے ملک کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے جب پورے ملک میں لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا تب لاکھوں ذریعہ معاش کی حالت کیا تھی۔ جب لاکھوں مہاجرین شہروں کو چھوڑ کر واپس اپنے گاؤوں کی طرف لوٹ رہے تھے، جسے اُلٹی مہاجرت (ریورس مائیگریشن) کا نام دیا گیا، تب میڈیا یہ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ – یہ لوگ واپس کیوں جا رہے ہیں؟ اس کی بجائے، صحیح سوال تو یہ تھا، جسے پاری نے اٹھایا: آخر انہوں نے اپنا گاؤوں چھوڑا ہی کیوں تھا؟ اور اس کا جواب صرف دو لفظوں میں تھا: زرعی بحران۔
پاری کے صحافی اپنے گھروں کو لوٹ رہے ان مہاجرین کے ساتھ صرف شہروں کی سرحدوں تک نہیں گئے، بلکہ ہم نے ان گاؤوں کا بھی دورہ کیا جہاں یہ مہاجر لوٹ کر واپس آئے تھے، اور انسانی یادداشت کی تازہ تاریخ میں اتنی بڑے انخلاء کو ایک ایسے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی جس سے مہاجرین، پورے معاشرہ، اور پالیسی بنانے والوں کو کافی مدد ملے گی۔
نتیجہ: پاری نے لاک ڈاؤن کے دوران ذریعہ معاش پر ۲۰۰ سے زیادہ اسٹوریز شائع کیں، جو کہ کووڈ۔۱۹ کے اثرات پر پاری کی کوریج کا مرکزی موضوع ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل کے دوران کئی مہاجرین نے خود بھی صحافت میں ہاتھ آزمایا اور کہانی بیان کرنے کی کوشش کی۔
فن، فنکاروں، کاریگروں اور دستکاروں پر اسٹوریز
ہندوستانی ثقافتوں کا شاندار تنوع اور کثرت پاری کے لیے بہت ہی خاص ہے اور ہمارے پاس ان کے بارے میں کئی گوشے ہیں اور رپورٹنگ بھی چل رہی ہے۔
آپ دیہی ہندوستان کے گلوکار اور شاعر، یا برتن سازی کی بہترین شکلوں کے بارے میں ہمارا کام دیکھ سکتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہ سارے پیشے اب زوال پذیر ہیں۔ یا پھر آپ ہندوستانی بُنکروں کی غیر یقینی دنیا میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہمارے پاس دیہی ہندوستان میں ڈھول کی تھاپ پر ایک خصوصی گوشہ بھی ہے، جس میں ان لوگوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ملک میں آلات موسیقی کو بجانے کی غیر معمولی روایت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں – جب کہ ان میں سے کچھ لوگ ذات اور صنف پر مبنی تفریق کے خلاف بھی اپنے ڈھول اور ہنر کا استعمال کر رہے ہیں۔
خواہ چمڑے کا کام کرنے والے ہوں یا کٹھ پتلی بنانے والے، لکڑی کا کام کرنے والے ہوں یا شنکھ کے کاریگر، پاری نے ان موضوعات پر اسٹوریز، تصاویر اور ویڈیوز کا ایک بڑا ذخیرہ تیار کیا ہے۔
گرائنڈ مل سانگس پروجیکٹ اور کچھّی گیت
ان دو شعبوں میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں، اس کے پیمانے، دائرہ کار اور پیچیدگی کا احساس دلانے کے لیے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں ایک بار ضرور دیکھیں، جو کہ کسی بھی صحافتی ویب سائٹ پر پیش کی جانے والی شاید ایک منفرد کوشش ہے۔ اور ہم ذیل کے دو پروجیکٹوں کی طرح مختلف ثقافتوں اور ملک کے مختلف حصوں سے ایسی مزید چیزیں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں:
پاری پر گرائنڈ مل سانگس پروجیکٹ کسی ایک زبان میں گاؤں کی غریب خواتین کے ذریعے تیار کردہ اور گائے گئے گیتوں کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔ ریکارڈنگ، ویڈیو، ٹرانس کرپٹ، ترجمے اور اسٹوریز کی شکل میں، دیہی مہاراشٹر کی خواتین کے ذریعے گائے گئے ایک لاکھ سے زیادہ اووی (اشعار) کا یہ ایک منفرد مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ اس منظوم شکل کے تنوع اور گہرائی کے بارے میں بتاتا ہے، جس کے ذریعے خواتین روزمرہ کی زندگی، پدرانہ سماج، ذات پات، صوفی سنت، تاریخی واقعات، بابا صاحب امبیڈکر وغیرہ کے بارے میں گاتی ہیں۔
رن کے گیت: کچھی لوک گیتوں کا مجموعہ کے نام سے چل رہا پروجیکٹ کچھّ کے لوک گیتوں کا ایک ملٹی میڈیا آرکائیو ہے۔ اس مجموعہ میں شامل ۳۴۱ گیتوں میں محبت، قربت، فراق، شادی، عقیدت، مادر وطن، جنسی بیداری، جمہوری حقوق کا اظہار ملتا ہے، اور تصاویر، زبانوں اور موسیقی کے ذریعے اس علاقے کے تنوع کا پتہ چلتا ہے۔ گجرات کے ۳۰۵ گلوکاروں اور موسیقاروں کے ایک غیر پیشہ ور گروپ نے مختلف آلات موسیقی کے ذریعے اس مجموعہ میں اپنا تعاون دیا ہے، اور کچھّ کی غائب ہوتی جا رہی زبانی روایات کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں، جو کسی زمانے میں کافی مقبول ہوا کرتی تھی۔ انہیں محفوظ کرنا خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہو گیا ہے، کیوں کہ ان کی آوازیں ریگستانی دلدل میں آہستہ آہستہ گم ہوتی جا رہی ہیں۔
آدیواسی بچوں کے آرٹ پر مبنی آرکائیو
یہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا آرکائیو ہے، جو آپ کو آدیواسی بچوں کے آرٹ کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ اس کے ذریعے، پاری آپ کو اسکول جانے والے چھوٹے چھوٹے آدیواسی بچوں کے ذریعے بنائی گئی پینٹنگ پر مبنی اس قسم کے سب سے پہلے آرکائیو سے روبرو کراتا ہے۔ اس میں اوڈیشہ کے جاج پور اور کیندوجھار ضلعوں میں تیسری اور ۹ویں جماعت میں پڑھنے والے بچوں کی پینٹنگ کو شامل کیا گیا ہے۔ بچوں نے یہ پینٹنگ اپنے استادوں کی طرف سے آدیواسی ثقافت، گاؤں کی زندگی اور برادریاں، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر پاری کی اسٹوریز اونچی آواز میں سنائے جانے کے بعد بنائی ہیں۔
اوڈیشہ کے اس پہلے مجموعہ میں ۵۷ اسکولوں میں پڑھنے والے ۹۸ آدیواسی بچوں کی پینٹنگ کو شامل کیا گیا ہے۔ ان بچوں کی عمر ۹ سے ۱۵ سال کے درمیان ہے اور وہ تیسری سے لے کر ۹ویں جماعت تک کے طالب علم ہیں۔ ان چھوٹے فنکاروں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہے، یعنی ۶۸ لڑکیاں اور ۳۰ لڑکے ہیں۔ ہر پینٹنگ کے ساتھ ۳۰-۲۰ سیکنڈ کا ایک ویڈیو بھی ہے، جس میں یہ چھوٹے فنکار اپنا تعارف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کام کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں۔ زیادہ تر نے اڑیہ میں اپنی بات کہی ہے، لیکن کچھ بچوں نے ہو، مُنڈا اور بیرہور جیسی آدیواسی زبانوں میں بھی اپنا ویڈیو ریکارڈ کرایا ہے۔
ان بچوں کا تعلق ۱۲ آدیواسی برادریوں سے ہے: بتھوڈی، بھوئیاں، بھومج، گانڈیا، گونڈ، ہو، کولھا، منکیرڈیا (جسے منکیڈیا بھی لکھا جاتا ہے – جو کہ بیرہوم قبیلہ سے نکلا ہے)، مُنڈا، سمتی، سنتال اور سونٹی۔ ان میں سے کچھ کی درجہ بندی خاص طور پر کمزور آدیواسی گروپ کے طور پر کی گئی ہے۔
یقیناً، یہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے، لیکن آخری نہیں ہے۔ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا ملک کے ہر حصہ سے آدیواسی بچوں کے آرٹ پر ایسے مزید آرکائیو تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
خواتین کی صحت پر پاری کی سیریز
یہ ملک بھر میں اب تک کا سب سے پہلا اور واحد صحافتی سروے ہے، جس میں خاص طور پر ہندوستان کی دیہی خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق حقوق کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اور اس میں دیہی علاقوں کی خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کو شامل کیا گیا ہے۔
اس سیریز میں ملک بھر سے پاری کی ۵۰ اسٹوریز ہیں، جن میں خواتین کی تولیدی صحت کا وسیع پیمانے پر احاطہ کیا گیا ہے – مثلاً بانجھ پن کی وجہ سے طعن زنی، عورتوں کی نس بندی پر زور، خاندانی منصوبہ بندی میں ’مردوں کی مشغولیت‘ کی کمی، ناکافی دیہی حفظان صحت کا نظام جہاں تک بہت سے لوگوں کی رسائی بھی نہیں ہے، اور غیر سند یافتہ ڈاکٹروں کا مسئلہ۔ اور بچوں کی خطرناک طریقے سے ولادت، حیض کی وجہ سے امتیازی سلوک، اولاد کے معاملے میں بیٹوں کو ترجیح دینا وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔ ایسی اسٹوریز جو دیہی ہندوستان میں صحت سے متعلق بڑے پیمانے پر تعصب اور روایات، عوام اور برادریوں، صنف اور حقوق، اور روزمرہ کی جدوجہد اور خواتین کی کبھی کبھار کی چھوٹی کامیابیوں کے بارے میں بتاتی ہیں۔
کام ہی کام، عورتیں گمنام
کام ہی کام، عورتیں گمنام اپنی نوعیت کی پہلی، مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ، کیوریٹ کی گئی، جامد تصاویر پر مبنی نمائش ہے، جسے طبعی نمائش (جس میں کافی متن اور بڑی تصاویر بھی شامل ہیں) کے علاوہ، تخلیقیت کے ساتھ آن لائن بھی پیش کیا گیا ہے۔ ہر پینل میں اوسطاً ۲ سے ۳ منٹ کا اپنا الگ سے ویڈیو بھی ہے۔ آخری پینل، جہاں پر یہ شو ختم ہو رہا ہے، اس میں ۷ منٹ کا ویڈیو شامل کیا گیا ہے۔
یہ تمام تصویریں پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ نے ۱۹۹۳ سے ۲۰۰۲ کے درمیان ہندوستان کی ۱۰ ریاستوں میں، تقریباً ایک لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کر کے کھینچی تھیں۔ یہ تصویریں اقتصادی اصلاح کی پہلی دہائی سے لے کر قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم کے شروع ہونے سے دو سال پہلے تک کی ہیں۔
نمائش کے ابتدائی طبعی مقامات میں بس اور ریلوے اسٹیشن، کارخانوں کے دروازے، زرعی اور دیگر مزدوروں کی بڑی ریلیاں، اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں شامل رہی ہیں۔ اب اس پورے کام کو پہلی بار اس ویب سائٹ پر آن لائن پیش کیا جا رہا ہے۔
مجاہدین آزادی کی گیلری
آئندہ کچھ سالوں میں، ہندوستان کو آزاد کرانے کی لڑائی لڑنے والوں میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچے گا۔ ہندوستانیوں کی آئندہ نسلوں کو کبھی بھی ان لوگوں سے ملنے، بات کرنے، ان کی باتیں سننے، یا کسی بھی طرح ان سے رابطہ کرنے کا موقع نہیں مل پائے گا، جنہوں نے اپنی قوم کو ایک حقیقت بنانے کے لیے لڑائی لڑی تھی۔ مجاہدین آزادی کی گیلری، دراصل انہی نسلوں – اور ساتھ ہی ہماری موجودہ نسل کو بھی ایسا موقع فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے، جہاں ہم اُس سنہری نسل سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
یہاں پر آپ نہ صرف کئی مجاہدین آزادی کی تصویریں دیکھ سکتے ہیں، بلکہ ان میں سے کچھ کو ویڈیو میں بولتے ہوئے دیکھ اور سن بھی سکتے ہیں؛ ایسے ویڈیو کہیں اور دستیاب نہیں ہیں۔ آپ ان کے اہل خانہ/ وارثین، گھروں اور گاؤوں کی بھی تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔
اس گیلری کو ہندوستان کی آزادی کے ۷۵ویں سال میں، ۱۵ اگست ۲۰۲۲ کو شروع کیا گیا تھا۔ اس میں ہندوستان کی آزادی کے ان پیدل سپاہیوں کی تصویریں اور ویڈیو ہیں، جن کے بارے میں لوگوں کو زیادہ کچھ معلوم نہیں ہے۔ ان میں سے بعض کی کہانیاں پاری پر کسی اور جگہ پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن زیادہ تر کی کہانیاں پہلے سے موجود نہیں ہیں، لہٰذا اس مجموعہ میں اضافہ ہوتا رہے گا – تصویر اور ویڈیو دونوں کے ہی معاملے میں – اور اس گیلری میں ہم مزید مجاہدین آزادی کی کہانیاں پیش کرتے رہیں گے۔
کلاس روم میں پاری
پاری ایجوکیشن بھی ہمارے دیگر مواد کی طرح ہی مفت ہے اور تمام لوگوں کے لیے ہمیشہ دستیاب رہتا ہے۔ دور حاضر کے نصاب اور کلاس روم سے دیہی ہندوستان جس طرح غائب ہے، وہ سب کو دکھائی دے رہا ہے۔ اگر کہیں پر اسے شامل بھی کیا گیا ہے، تو اسے انتہائی دقیانوسی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نوجوانوں کی ایک پوری نسل اپنے ہی ملک میں کسی غیر ملکی کی طرح پرورش پا رہی ہے۔ پاری ایجوکیشن کے ذریعے ہم اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کلاس روم میں، ورکشاپ اور انٹرن شپ کے ذریعے اس کی شروعات کرتے ہیں، اور انہیں ہندوستان کی مختلف شکلوں سے روبرو کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈ میں بھیج کر ہم ان سے اسٹوریز بھی کرواتے ہیں۔
پاری پر آپ کو شہری اور دیہی دونوں علاقوں سے، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء کے ذریعے کی گئی کئی اسٹوریز پڑھنے کو ملیں گی۔ اس کے علاوہ، کئی ایسے نوجوان بھی ہیں جو اب اسکولوں میں تو نہیں ہیں لیکن اپنے علاقے، ثقافت اور تاریخ کے بارے میں رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ پاری ایجوکیشن کے ساتھ تقریباً ۱۵۰ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں نے رابطہ کیا ہے اور یہ تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔ اگر ہمارے پاس ضروری وسائل اور افراد ہوتے، تو شاید اس میں مزید تیزی سے اضافہ ہوتا۔
پاری کو آپ کی شرکت اور مدد کی ضرورت ہے
ایک طرف ہم تعاون کرنے والوں کا ایک گروپ تیار کرنے اور اسے وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مواد کا انتخاب کرنے اور کوالٹی برقرار رکھنے جیسی ادارتی ذمہ داریوں کی بھی تعمیل کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے، معتبر ریکارڈ والے تجربہ کار معاونین کا جڑنا اس کام کے لیے ضروری ہے۔ ان میں سے زیادہ تر صحافی، قلم کار اور مصنف ہوں گے۔ لیکن، سب نہیں۔ جو کوئی بھی اس کام میں دلچسپی رکھتا ہے، ہمارے لیے لکھ سکتا ہے یا اپنے موبائل فون سے بہتر کانٹینٹ اور کوالٹی والے ویڈیو بھی شوٹ کر سکتا ہے – بشرطیکہ کانٹینٹ اس آرکائیو کی شرطوں کے مطابق ہو۔ اس کے لیے، آپ کا پیشہ ور صحافی ہونا قطعی ضروری نہیں ہے۔
یاد رکھیں، پاری کی زیادہ تر کہانیاں ہندوستان کے دیہی باشندے خود بیان کرتے ہیں، نہ کہ میڈیا کے پیشہ ور افراد جو ان کی کہانی کو ریکارڈ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ دیہی باشندے خود اپنی کہانیوں کو شوٹ کریں گے۔ ان اسٹوریز کو رپورٹ کیا جائے گا – بشرطیکہ وہ دیہی علاقوں کے بارے میں ہوں۔
پاری کو کوئی بھی مفت میں ایکسیس کر سکتا ہے۔ اس سائٹ کو کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ایک غیر رسمی نیٹ ورک اس ٹرسٹ کو سپورٹ کرتا ہے، اور رضاکارانہ کام، مالی مدد اور ذاتی تعاون کے ذریعے اس کی بنیادی سرگرمیوں کی فنڈنگ کرتا ہے۔ نامہ نگاروں، پیشہ ور فلم سازوں، فلم ایڈیٹر، فوٹوگرافر، ڈاکیومینٹری فلم میکر اور صحافیوں (ٹیلی ویژن، آن لائن اور پرنٹ) کا یہ رضاکارانہ نیٹ ورک پاری کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اس کے علاوہ، ماہرین تعلیم، اساتذہ، محققین، تکنیکی ماہرین اور الگ الگ شعبوں کے پیشہ ور لوگوں نے بھی اس سائٹ کے ڈیزائن اور پاری کے بننے میں اپنا رول ادا کیا ہے۔
رضاکار (والنٹیئر) ہمارے لیے جو کر رہے ہیں اس سے آگے جا کر، کانٹینٹ (مواد) تیار کرنے کے لیے پاری کو پیسوں کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے ہمیں ایسے وسائل درکار ہیں جو اس عظیم کوشش کو آگے بڑھائیں اور اسے برقرار رکھیں۔ براہ راست سرکاری گرانٹ یا کارپوریٹ فنڈ حاصل کرنے کے لیے پاری نہ تو کبھی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی اسے قبول کرتا ہے۔ اور نہ ہی ہم کوئی اشتہار چھاپتے ہیں کیوں کہ ہمارا ماننا ہے کہ نوجوان پہلے ہی اشتہاروں کی بھرمار کا بنیادی نشانہ ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں آپ کی مدد کی کیوں اور کتنی ضرورت ہے۔
اگرچہ مالی تعاون کے لیے ہماری اپیل کا عنوان ہے ’اپنے ملک کا احاطہ کریں‘، لیکن دیہی ہندوستان کا کبھی بھی مکمل طور پر ’احاطہ‘ نہیں کیا جا سکتا اور اس سائٹ پر دستیاب مواد میں کئی بڑے حقائق کے چھوٹے ٹکڑے شامل ہیں۔ ہم ان تمام دنیا کا احاطہ تبھی کر سکتے ہیں، جب بڑے پیمانے پر عوام کی حصہ داری ہوگی۔ براہ کرم دل کھول کر پاری کی مالی مدد کریں۔


