ایک بندر چمپا پٹّی کے بچہ کو چھین کر بھاگنے ہی والا تھا۔ وہ اپنے گاؤں راجپور کے پاس واقع جنگل گئی ہوئی تھیں، جب یہ واقعہ پیش آیا۔ اس نوجوان ماں نے اپنے بچہ کو پیٹھ پر باندھ رکھا تھا اور ہفتہ واری ہاٹ (بازار) میں بیچنے کے لیے جنگل سے مہوا اور ساگوان کے بیج چُن رہی تھیں۔
وہ بتاتی ہیں، ’’کام کرتے وقت میں نے اسے تھوڑی دیر کے لیے زمین پر چھوڑ دیا تھا اور دیکھا کہ ایک بندر میرے بچہ کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ لگاتار جنگل جاتے وقت اپنے بچہ کی حفاظت کے بارے میں فکرمند رہنے لگیں۔
مگر اب انہیں اپنے بچہ کو جنگل میں ساتھ نہیں لے جانا پڑتا۔ چمپا جیسی چھتیس گڑھ کے گاؤوں کے نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کی مائیں اپنے بچوں کو پاس کے کسی کریچ (خانہ اطفال) یا ’لئیکا گھر‘ میں چھوڑ سکتی ہیں اور دن میں روزی روٹی کما سکتی ہیں۔ ان میں سات مہینے سے تین سال تک کے بچوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔


















