چھایا اُبالے اپنی ماں کو یاد کرتی ہیں جو چکّی چلاتے ہوئے لوک گیت گایا کرتی تھیں، جن میں خاندانی رشتوں کی خوشیوں اور مشکلوں کا ذکر شامل ہوتا تھا

Pune, Maharashtra
|SUN, AUG 30, 2026
کریلے میں مٹھاس بھرنے کی کوشش
Author
Translator
Translation Editor
’’میری ماں بہت سارے گیت گایا کرتی تھی، لیکن میرے لیے ان سبھی کو یاد رکھ پانا مشکل ہے،‘‘ چھایا اُبالے نے پاری سے کہا، جب ہم ان سے ملنے مہاراشٹر کے پونے ضلع میں واقع شیرور تعلقہ گئے تھے۔ ہم ان تمام گلوکاراؤں سے، جنہوں نے گرائنڈ مل سانگز پروجیکٹ (جی ایس پی) میں گیت گا کر اپنا تعاون دیا تھا، دوبارہ رابطہ کی کوشش کے دوران اکتوبر ۲۰۱۷ میں سوِندانے گاؤں میں رہنے والے پوار خاندان کے گھر پہنچے تھے۔ یہ ایک مکمل خاندان تھا، جس میں بیٹا، بیٹی، بہو، اور بچے ساتھ رہتے تھے۔
بدقسمتی سے ہم گلوکارہ گیتا پوار سے مل نہیں پائے۔ ان کا چار سال پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ البتہ ہماری ملاقات ان کی بیٹی چھایا ابالے سے ہوئی، جنہوں نے اپنی ماں کے نغموں کے بارے میں ہمیں بتایا۔ چھایا (۴۳) نے ہمیں اپنی ماں کا چاندی کا جوڈاوے (انگوٹھے کا چھلّہ) دکھایا، جس کو انہوں نے اپنی ماں کی فریم میں لگی تصویر کے سامنے بہت ہی پیار سے رکھا ہوا تھا۔
اپنی ماں سے سنی ہوئی او وی کو یاد کرنے کی کوشش میں چھایا نے چکّی چلاتے وقت گائے جانے والے چار گیت گائے، جسے انہوں نے دو چھوٹے لوک گیتوں کے درمیان گنگنا کر سنایا۔ ان میں سے پہلا گیت اداسی اور دوسرا خوشیوں سے بھرا تھا۔ انہوں نے شروعات دو لائن کی ایک کہانی سے کی، جو بھدر کے مقبول راجہ اشو پتی کی بیٹی ساوتری کے اوصاف بیان کرنے والی ایک اساطیری داستان سے ماخوذ تھی۔ یہ او وی آگے گائے جانے والے گیتوں کی تان کو درست کرنے والا گلا (دُھن) تھا۔ یہ ایک عام روایت ہے۔

Samyukta Shastri

Samyukta Shastri

Samyukta Shastri
پہلے لوک گیت میں وہ مہابھارت میں اپنے سو چچا زاد کورو بھائیوں سے برسر پیکار پانچ پانڈو بھائیوں کا موازنہ ایک تنہا عورت کے طور پر خود سے کرتی ہیں، جسے اپنے بہت بڑے گھرانے کی ذمہ داری اکیلے اٹھانی پڑتی ہے۔ وہ پنڈھر پور کے مندر میں موجود وٹّھل-رکمنی کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کرتی ہیں اور انہیں اپنے والدین کی طرح قابل احترام سمجھتی ہیں۔ اپنے ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے چھایا کا گلا بھر آتا ہے، اور وہ اپنے رخساروں پر گرتے ہوئے آنسوؤں کو روک نہیں پاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے، گویا اچانک بادل پھٹ گیا ہو اور موسلادھار بارش ان کے گھر کی چھت پر برس پڑی ہو۔
گیت کے اگلے بند میں وہ بھائی سے اپنا دکھ بیان کرتی ہیں کہ کیسے ان کی زندگی شوہر کے چار بڑے بھائیوں اور ان کی بیویوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں گزر رہی ہے۔
لوک گیت کے بعد چار او وی میں چھایا اس محبت اور تحفے کے بارے میں بتاتی ہیں، جو ایک بچہ کو اس کے ماموں اور ممانی سے ملے ہیں۔ بچہ کو اس کے ماموں سے ایک لال کرتا اور ایک ٹوپی سوغات میں ملی ہے۔ جب بچہ بھوک سے رونے لگتا ہے تب گلوکارہ اسے دہی بھات کھلانے کا مشورہ دیتی ہے۔
اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اور افسردگی سے باہر نکلتے ہوئے چھایا ایک لوک گیت گاتی ہیں، جو ظرافت سے بھری ہوئی ہے۔ ایک بہو کے لیے کریلے کی مانند کڑواہٹ سے بھری ساس کو راضی کرنا اور اس کے اندر مٹھاس پیدا کرنا کتنا مشکل کام ہے۔
لوک گیت:
گریجا آنسو بہاتی ہے
اشو پتی، بھدر کے مقبول راجہ، کتنے خوش بخت تھے
ان کی بیٹی، ساوتری، عظمت والی مشہور جہاں تھی
کورو ایک سو ایک اور پانڈو تھے پانچ
چاول ہو یا دال، گریجا اسے کوٹتی ہے
غلّہ کوٹتے ہوئے گریجا نرم لہجے میں پوچھتی ہے
کس ملک سے آئی ہو؟ کس گھرانے سے؟
ہم پنڈھر پور سے آئی ہیں، وٹھّل گھرانے سے
وٹھّل میرے والد، رکمنی میری والدہ ہیں
ان دونوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دو
پنچمی کے دن میرے بھائی کو بھیجنا
وہ مجھ کو لے جائے گا
میرے بھائی، تمہارے پیر دھوتی ہوں میرے بھائی
گریجا تمہارے پیر دھوتی ہے
گریجا کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں
کس نے تمہیں بھُلایا، کس نے تمہیں تکلیف دی
مجھے کسی نے نہیں بھُلایا، نہ کسی نے تکلیف دی
لیکن میرے چار جیٹھ اور جیٹھانی ہیں
ان اذیتوں سے کیسے باہر نکلوں گی، میرے بھائی!
गिरीजा आसू गाळिते
भद्र देशाचा अश्वपती राजा पुण्यवान किती
पोटी सावित्री कन्या सती केली जगामध्ये किर्ती
एकशेएक कौरव आणि पाची पांडव
साळीका डाळीका गिरीजा कांडण कांडती
गिरीजा कांडण कांडती, गिरीजा हलक्यानं पुसती
तुमी कोण्या देशीचं? तुमी कोण्या घरचं?
आमी पंढरपूर देशाचं, काय विठ्ठलं घरचं
विठ्ठल माझा पिता, रुक्मिनी माझी माता
एवढा निरोप काय, सांगावा त्या दोघा
पंचमी सणाला काय ये बंधवा न्यायाला
ए बंधवा, ए बंधवा, तुझं पाऊल धुईते
गिरीजा पाऊल धुईते, गिरीजा आसू जी गाळिते
तुला कुणी बाई नि भुलीलं, तुला कुणी बाई गांजिलं
मला कुणी नाही भुलीलं, मला कुणी नाही गांजिलं
मला चौघे जण दीर, चौघे जण जावा
एवढा तरास मी कसा काढू रे बंधवा
او وی (گرائنڈ مل سانگز)
سیتا اپنے بچے کو کرتا اور ٹوپی پہناتی ہے
بری نظروں سے بچانے کے لیے گال پر کالا ٹیکہ لگاتی ہے
کرتا اور ٹوپی میں، اپنے بچے کو ایسے کس نے سجایا ہوگا!
اس کے ماموں نے یہ چیزیں بچے کے لیے بھیجی ہیں
میرے یوگیش کے ماموں نے یہ ساری چیزیں بھیجی ہیں
کرتا اور ٹوپی…لال کپڑے بچے نے پہنے ہیں
میرے بچے کی ممانی کل آئی تھیں اسے دیکھنے
بچہ رونے لگا ہے، اسے رونے مت دو
پیالے میں اسے دہی بھات تم کھلا دو
अंगण-टोपडं सीता घालिती बाळाला
कोणाची लागी दृष्ट, काळं लाविती गालाला
अंगण-टोपडं हे बाळ कुणी नटविलं
माझ्या गं बाळाच्या मामानं पाठविलं
माझ्या गं योगेशच्या मामानं पाठविलं
अंगण-टोपडं गं बाळ दिसं लालं-लालं
माझ्या गं बाळाची मावशी आली कालं
रडतया बाळ त्याला रडू नको देऊ
वाटीत दहीभात त्याला खायला देऊ
لوک گیت:
میری تکلیف دہ ساس
میری ساس بہت خراب ہے، ناخوش رہنا اس کی عادت ہے
اس کریلے کو میٹھا کیسے کروں (۲)
پڑوسن گنگی نے ان سے مجھ کو بھلا برا کہا ہے
میری ساس تو اب ناراض ہے، اس کی باتوں میں آئی
بچے پیار سے اس کے پاس ہیں جاتے، ’دادی دادی‘ بلاتے، مگر وہ بات نہیں کرتی
میں اس کریلے کو کیسے پکاؤں کہ اب وہ میٹھا لگے
میری ساس بڑی خراب ہے، ناخوش رہنا اس کی عادت ہے
सासू खट्याळ लई माझी
सासू खट्याळ लई माझी सदा तिची नाराजी
गोड करू कशी बाई कडू कारल्याची भाजी (२)
शेजारच्या गंगीनं लावली सासूला चुगली
गंगीच्या सांगण्यानं सासूही फुगली
पोरं करी आजी-आजी, नाही बोलायला ती राजी
गोड करू कशी बाई कडू कारल्याची भाजी
सासू खट्याळ लई माझी सदा तिची नाराजी
پرفارمر/ گلوکارہ: چھایا اُبالے
گاؤں: سوِندانے
تعلقہ: شیرور
ضلع: پونے
تاریخ: یہ گیت اکتوبر ۲۰۱۷ میں ریکارڈ کیے گئے تھے اور یہ تصویریں بھی اسی وقت کھینچی گئی تھیں۔
پوسٹر: سینچتا پربت
اصل ’گرائنڈ مل سانگز پروجیکٹ‘ کے بارے میں پڑھیں، جسے ہیما رائیرکر اور گی پائیٹواں نے شروع کیا تھا۔
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/making-bitter-gourd-sweet-ur

