نام دیو بھانگرے ۲۵ جنوری کو ایک بے یقینی اور تلخی کے ساتھ احتجاجی مارچ میں شامل ہوئے۔ تین دن بعد وہ امید کے ساتھ گھر واپس لوٹ گئے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ دسیوں ہزار دوسرے آدیواسی کسان شامل تھے، جن کا تعلق بنیادی طور پر ناسک اور اہلیہ نگر (سابقہ احمد نگر) جیسے ضلعوں سے تھا۔
اہلیہ نگر ضلع کے کَھڈکی بُدرُک گاؤں کے مہادیو کولی قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والے بھانگرے کا خاندان کئی نسلوں سے اکولے تعلقہ میں جنگل کی چھ ایکڑ زمین پر کھیتی کرتا آ رہا ہے۔ لیکن، مہاراشٹر کے ہزاروں آدیواسیوں کی طرح ان کے پاس بھی اس قطعہ زمین کا مالکانہ حق نہیں ہے۔
’’میرے دادا کے زمانہ سے ہم چاول اور راگی کی کھیتی کر تے آ رہے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’لیکن ہمیں کبھی تحفظ کا احساس نہیں ہوا۔ ہمیں کسی بھی وقت بے دخل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
سال ۲۰۰۶ میں حکومت ہند نے اس شدید عدم تحفظ کے تدارک کے لیے تاریخی جنگلات سے متعلق حقوق کا ایکٹ (ایف آر اے) پاس کیا۔ برسوں کی جدوجہد کے بعد یہ ایکٹ قانون بن گیا۔ یہ قانون درج فہرست قبائل اور جنگل کے دیگر روایتی مکینوں کو جنگل کی زمین اور وسائل کے حقوق فراہم کرتا ہے، جو نسل در نسل ایسے علاقوں میں رہتے آئے ہیں۔ اس قانون کے تحت گرام سبھا دعویٰ پیش کرتی ہے، سب ڈویژنل اور ضلعی کمیٹیوں کے ذریعے اس کی تصدیق ہوتی ہے، اور جب تک کہ ان کے حقوق کا تصفیہ نہیں ہو جاتا، یہاں کے باشندوں کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، زمینی سطح پر اس قانون کا نفاذ مشتبہ رہا ہے۔






