وہ سوکھے گھاس کے ایک بڑے سے گٹھر پر بیٹھی ہوئی ہیں، جس کے آس پاس جہاں تک نظر جاتی ہے، سب کچھ بکھرا اور تباہ و برباد سا دکھائی پڑتا ہے۔ بانس کی ٹوٹی لکڑیاں، ترپال کی پھٹی چادریں، پلائی ووڈ کی تختیاں، رسی کے ٹکڑے، پھٹی ساڑی، گھر کے کچھ برتن، مٹی میں آلودہ کپڑے، اور گھر کا کچھ دیگر سامان…سب کچھ زمین کے چاروں طرف بس یوں ہی بے ترتیب پڑا ہوا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے، جسے وہ گھر کہتے تھے۔ اور یہ اب بھی ان کے لیے گھر ہے۔ لیکن آج یہ بالکل الگ دکھائی دیتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ ان کی جھگیوں کو توڑ کر ایک کنارے کر دیا گیا تھا۔ ریتا دیوی کا گھر بھی چلّہ سرودا کھادر کے سینسس ٹاؤن میں آنے والی ان ۱۰-۱۵ جھگیوں میں سے ایک تھا، جس پر بلڈوزر چلایا گیا۔
لیکن ان کی پیشانی پر تشویش کا کوئی نشان نہیں ہے، ان کا چہرہ بے فکر سا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے ایک ہاتھ میں سنہرے بھورے رنگ کی ایک لمبی، تقریباً ایک انچ چوڑی اور تھوڑی نکیلی گھاس پکڑی ہوئی ہے، اور اسے درانتی سے، جو وہ دوسرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہیں، دو یا تین پتلی پٹیوں میں چیر دیتی ہیں۔ بلڈوزر کے ذریعہ بار بار ان کی جھگی کو توڑا جانا، ان کے لیے یا یمنا کے آس پاس بنی جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے کوئی نئی یا ڈرانے والی بات نہیں ہے، جہاں دہلی حکومت چھ بائیو ڈائیورسٹی پارکوں میں سے ایک بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ریتا کا کہنا ہے، ’’یہ زمین سرکاری ہے، اس لیے تو جھگی وُگّی توڑ دیتا ہے۔ پٹّہ پر زمین یہاں وہی لوگ سال بھر کے لیے لیتے ہیں جو کھیتی کرتے ہیں۔‘‘
’’جب ہم اکشر دھام کے پاس رہ رہے تھے تب بھی یہی ہوا تھا،‘‘ ریتا کہتی ہیں۔ ’’اس کے [اکشر دھام] بغل میں کوئی مچھّی وچھّی کاٹ رہا تھا، تو کوّا مچھلی کا گندا لے کر مندر کے اندر چلا گیا۔ اسی کی وجہ سے ہمارا سب کا جھگی توڑ دیا گیا۔ یہ سال ۲۰۱۵ میں ہوا تھا۔ پھر ہم اس بغل سے چلّہ کھادر آ گئے اور تب سے یہیں رہنے لگے۔ یہ جھگی تو ۴ سے ۵ بار توڑ بھی دیا، پھر بھی ہم لوگ یہیں رہ رہے ہیں۔‘‘ ان کی فیملی نے تقریباً ۸ سے ۱۰ گز کی زمین کرایے پر لے رکھی ہے، جس پر انہوں نے اپنی چھوٹی سی جھگّی (جھونپڑی) بنائی ہوئی ہے۔ وہ ہر مہینے اس کا ۵۰۰ روپے کرایہ دیتی ہیں۔
’’ہم کرایہ ایک گُجّر آدمی کو دیتے ہیں۔ وہ چلّہ میں ہی رہتا ہے، راج ویر نام ہے اس کا۔ گُجّر کا جو زمین ہے نا، اس کا دادا پُرکھا سرکار کو بیچ ڈالا، اور یہ معاوضہ بھی لے چکا ہے۔ لیکن ان کا بیٹا اس پر اب بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ ہم غریب لوگ سے مار پیٹ کر کے، دھمکی دے کر پیسہ لے رہا ہے،‘‘ ریتا کہتی ہیں۔ ’’تمہارا کھیت، تمہاری زمین، تو جان۔ ہمارا تو رہنے سے مطلب ہے۔ ہم لوگ کا کیا مطلب اس سے۔ ہم کبھی پکّا گھر نہیں بناتے، بس رہنے بھر کے لیے بناتے ہیں۔ وہ بار بار جھگی توڑ دیتے ہیں، کون بار بار بنائے گا؟‘‘ اتنا کہہ کر، وہ کٹی گھاس کی پٹیوں کو باندھ کر ایک چھوٹا سا گٹھر بنانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
حال ہی میں ہوئی بلڈوزر کارروائی کے بعد ریتا کی فیملی نے جیسے تیسے پنّی اور ترپال کی مدد سے دوبارہ اپنی جھونپڑی کھڑی کی ہے۔ یہاں رہنے والے زیادہ تر خاندان یومیہ اجرت پر کام کرنے والے (دہاڑی) مزدور ہیں، جو یوپی اور بہار سے مہاجرت کر کے آئے ہوئے ہیں۔ ریتا خود بہار کے سپول ضلع سے آتی ہیں۔ وہ ۱۹۹۳ سے دہلی میں ہیں، جب ان کے والدین روزگار کی تلاش میں بس بِٹّی گاؤں سے دہلی آ گئے تھے۔ سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، تقریباً ۹۳ لاکھ لوگ روزگار کی تلاش میں بہار سے مہاجرت کر کے دیگر ریاستوں میں گئے ہیں۔ ریتا کا تعلق ملاّح برادری سے ہے، جو ایک ماہی گیر برادری ہے۔ انہیں ’نشاد‘ اور ’دھیمر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اب یہ برادری بہار میں درج فہرست ذات کے زمرے میں شامل ہے۔




















