’’اگر ہماری براداری کا کوئی شخص بانس سے پرّا [خشک کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مسطح تھالی]، یا سوپا [اناج پھٹکنے کا سوپ] بناتا ہے، تو اسے دوسرے گروپ کو اناج اور رقم کی صورت میں معاوضہ ادا کرنا ہوتا ہے۔‘‘ منگلی بائی اپنے ذریعہ معاش کے ضابطہ کی وضاحت کرتی ہیں، جس کی پابندی بیگا آدیواسی برادری کی ذیلی شاخیں جیسے، بِنجھوار، ناہر، نَروتیا، بھاروتیا، رائے مینا اور کاٹھ مینا کرتی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں بیگا برادری خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی) میں شامل ہے۔ ’’ہر ذیلی شاخ کے لوگ بانس سے الگ الگ چیزیں بناتے ہیں۔‘‘
وہ خود ایک بنجھوار بیگا آدیواسی ہیں، اور بالاگھاٹ ضلع کے ناٹا گاؤں کی بستی پانڈا ٹولہ میں رہتی ہیں۔ اس بستی میں ۱۰ سے ۱۲ آدیواسی کنبے آباد ہیں۔ آج جمعہ کی صبح ہے اور منگلی بائی اپنی برادری کے دیگر افراد کے ساتھ بانس لانے کے لیے مالدھر گاؤں کے قریب واقع جنگلاتی علاقہ کی جانب گامزن ہیں۔ اپنے گروپ میں مجھے شامل کرنے کے لیے انہیں تھوڑا انتظار کرنا پڑا، لہٰذا وہ اپنے معمول کے وقت یعنی ۴ بجے صبح سے ذرا دیر بعد نکلی ہیں، لیکن پھر بھی ابھی طلوع آفتاب نہیں ہوا ہے۔
راستے میں وہ اپنے کھانے کے ڈبوں کو ندی کی خشک سطح کے نیچے چھپا دیتی ہیں اور صرف ایک پانی کی بوتل اور ایک کلہاڑی لے کر آگے چلتی ہیں۔ ’’یہ وزن کم کرنے کا ایک طریقہ ہے، جسے ہم اپنا رہے ہیں،‘‘ منگلی بائی کہتی ہیں۔ دوپہر کے بعد وہ پانڈا ٹولہ کی طرف اسی راستے سے ۸ سے ۱۰کلومیٹر پیدل چل کر واپس آئیں گی۔ ان کے سر پر تین چار بانس ہوں گے جن کا وزن تقریباً ۲۵ کلو ہوگا۔






































