’’پڑھائی میں اپنا دل لگاؤ۔ تم اپنی برادری کے دوسرے بچوں کے لیے مثال بن سکتے ہو۔‘‘
جتیندر شرما سر نے جب پوری کلاس کے سامنے مجھ سے یہ الفاظ کہے تھے تب میں ۹ویں جماعت میں رہا ہوں گا۔ میں اتنا خوش تھا کہ اس وقت ایک لفظ بھی نہیں بول سکا۔ زندگی میں کسی نے پہلی بار میرے جیسے موسہر لڑکے میں ایسا بھروسہ جتایا تھا۔ اسکول سے گھر لوٹتے وقت یہ الفاظ راستے بھر میرے کانوں میں گونجتے رہے۔ ’’تم ایک مثال بن سکتے ہو…‘‘ میں نے اپنے بارے میں ایسا پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔
اُس دن مجھے پہلی بار یہ بات سمجھ میں آئی کہ شاید میری تعلیم صرف مجھ تک محدود نہیں ہے۔ یہ میرے آس پاس کے دوسرے بچوں کو بھی اپنی تعلیم جاری رکھنے کا حوصلہ عطا کر سکتی ہے۔ میں اور بھی محنت سے پڑھنے لگا۔ حالات جب بھی میرے خلاف ہوتے، تو میں شرما سر کے الفاظ کو یاد کر کے اپنے عزم کو مضبوط کرتا۔ ٹیچر کی بات کتنی دور تک جاتی ہے! اس کا کیا اثر ہوتا ہے! مجھے لگتا ہے کہ شرما سر کو نہ صرف ریاضی پڑھانا آتا تھا، بلکہ وہ اپنے شاگردوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کا بھی اندازہ لگا لیتے تھے۔
استاد نہ صرف آپ کو کتاب پڑھنا سکھاتا ہے، بلکہ ایک اچھا ٹیچر آپ کو خواب بُننا بھی سکھاتا ہے۔
میرا نام آشیش نند (۲۵) ہے۔ میں اتر پردیش کے مرزا پور ضلع کے مجھوا گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ ہم لوگ موسہر ہیں۔ لوگ میری برادری کے بارے میں بہت کچھ سنتے ہیں، لیکن ہمیں سمجھ نہیں پاتے۔ ’موسہر‘ لفظ استعمال کرتے ہی ذہن میں غریبی، ہاتھ سے کی جانے والی مزدوری، اور محرومی کا خیال ابھرنے لگتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ نسلوں سے ہم معاشرہ میں سب سے حاشیہ پر رہے ہیں۔ اتر پردیش میں انہوں نے ہمیں درج فہرست ذات میں جگہ دی ہے۔ ہمارے آباء و اجداد کے پاس بھی نہ تو کوئی زمین تھی اور نہ ہی مستقل روزگار اور آمدنی۔ ہم دلت ہیں۔ تعلیم کا ہمارے یہاں کوئی رواج نہیں تھا۔ گاؤں کے دیگر غریب برہمنوں کے برعکس، تعلیم ہماری زندگی کا کبھی کوئی حصہ نہیں رہا۔










