لتا بائی کو ہفتہ کو ایک دن کی بھی چھٹی نہیں ملتی۔ وہ روزانہ کام کرتی ہیں۔ اگر وہ بیمار پڑ جائیں اور چھٹی لیں، تو جس ٹھیکہ کمپنی کے لیے وہ کام کرتی ہیں، وہ ان سے ۵۰۰ روپے یومیہ کا جرمانہ وصول کرتی ہے۔
اور لتا بائی، لاتور شہر کی انعام یافتہ کچرا بیننے والی صفائی مزدور ہیں۔
’’میں لاتور شہر کی واحد خاتون ڈرائیور ہوں۔ سال ۲۰۱۱ میں لاتور فیسٹیول میں ہمارے ایم ایل اے امت دیش مُکھ کے ذریعہ مجھے اپنے متعینہ رہائشی علاقہ کو صاف رکھنے کے لیے ’لاتور بھوشن پُرسکار‘ سے نوازا گیا تھا،‘‘ انہوں نے پاری سے بات کرتے ہوئے کہا۔
میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے میرے علاقہ کا جائزہ لیا تھا اور انہیں سوکھا یا گیلا کچرا کہیں نہیں ملا۔ اتنے بڑے مجمع، وزیروں اور مشہور شخصیات کی موجودگی میں انعام پا کر مجھے بیحد خوشی حاصل ہوئی تھی۔ مجھے لگا تھا کہ اب میری جدوجہد کو پہچان ملے گی – لیکن تب مجھے کہاں معلوم تھا کہ یہ اعزاز صرف ایک دن کا ہے،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔
مہاراشٹر کے لاتور شہر کی ۴۰ سالہ لتا بائی رسال کہتی ہیں، ’’میں ۲۰۰۲ سے لاتور میں کچرا چن رہی ہوں۔‘‘ اسی سال ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ محض ۱۵ سال کی عمر میں شادی کے بندھن میں بندھی تھیں، اور شادی کے سات سال بعد ہی ان کے شوہر گزر گئے۔ معاش کی تلاش میں انہوں نے خود کی اور اپنے پانچ بچوں کی پرورش کرنے کے لیے کچرا بیننے کا کام شروع کر دیا۔
















