اَرین اپنے گاؤں کی آخری خاتون ہیں جو کبھی ٹیٹو فنکار تھیں۔
ایک لمبی ساخت کی پھوس کی چھت والی روایتی کونیاک جھونپڑی کے باہر بیٹھیں یہ عمر رسیدہ خاتون ایک گیت گا رہی ہیں، جسے انہوں نے بچپن میں سیکھا تھا۔ یہ گیت ٹیٹو بنانے کے دوران گایا جاتا ہے۔



اَرین اپنے گاؤں کی آخری خاتون ہیں جو کبھی ٹیٹو فنکار تھیں۔
ایک لمبی ساخت کی پھوس کی چھت والی روایتی کونیاک جھونپڑی کے باہر بیٹھیں یہ عمر رسیدہ خاتون ایک گیت گا رہی ہیں، جسے انہوں نے بچپن میں سیکھا تھا۔ یہ گیت ٹیٹو بنانے کے دوران گایا جاتا ہے۔
رین-آم مانیو، ناؤ ہُنگ کھو تو
گولنگ نِییہہ
پھونگ کات تاہکا، چِلم نگامپو مے نیوئی ہئی
[جس دن پیاری رین-آم مانیو
ماں کی گود میں بیٹھ کے بنوائی ٹیٹو،
اُس دن کھیت میں مت جانا،
بس چِلم میں بیٹھ کر آرام کرنا]
یہ گیت ٹیٹو بنوا رہی شہزادی رین-آم مانیو کے بارے میں ہے۔ اس گیت میں ’چِلم‘ کو ’مورنگ‘ کہا گیا ہے، جو مردوں کی مل بیٹھنے کی روایتی جگہ ہوتی ہے۔
کونیاک لوگوں (ناگالینڈ میں درج فہرست قبائل کے طور پر درج) کے لیے زندگی کے مختلف مراحل میں اور مختلف مواقع پر ٹیٹو بنوانا ان کی ثقافتی شناخت کا حصہ تھا، لیکن یہ روایت ۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کی دہائیوں میں آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ یہ رسم کسی طرح مزید ایک دہائی تک جاری رہی، لیکن ۱۹۷۰ کی دہائی میں اس پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی۔ عیسائیت کی آمد اور کونیاک اسٹوڈنٹس یونین کے زیر اثر اس فن کا زوال ہوا اور مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
لیکن اس وقت تک تمام نوعمر کونیاک لڑکیاں اپنی تعلیم کے ایک حصہ کے طور پر ٹیٹو بنانے کا طریقہ سیکھتی تھیں، الوہ نووانگ کی بات چیت کے دوران ان کی ماں گیت گانا جاری رکھتی ہیں۔ وہ شی انگھا چنیو گاؤں کے موجودہ ’انگھ‘ (سربراہ) ہیں۔ یہ وہ گاؤں ہے جہاں آرین نے اپنا آخری ٹیٹو ۱۹۶۷-۶۸ میں بنایا تھا۔ اب ان کی عمر ۸۰ سال سے زیادہ کی ہو چکی ہے۔

Swadesha Sharma

Swadesha Sharma

Sarbajaya Bhattacharya
نصف صدی بعد، اپریل کی ایک گرم صبح کو پاری نے مون ضلع کے بالائی علاقہ کے شی انگھا چنیو گاؤں میں رہنے والی ارین اور دیگر ٹیٹو آرٹسٹوں سے ملاقات کی۔ یہ گاؤں میانمار سے متصل ہندوستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
تقریباً ۵۰۰۰ کی آبادی والے کونیاک برادری کے لوگ چھ روزہ تہوار آؤلیانگ منانے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ تہوار ہر سال موسم بہار میں اس وقت منعقد کیا جاتا ہے جب برادری نئے جھوم کھیتوں میں بیج بونے کے بعد دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اکٹھا ہوتی ہے، اور اچھی فصل کے لیے دعا کرتی ہے۔ ناگالینڈ میں یہ برادریاں آج بھی جھوم (منتقلی کاشت) پر عمل پیرا ہیں۔
آس پاس کے گاؤوں سے لوگ جوق در جوق انگھ کی رہائش گاہ کے قریب میدان میں جمع ہوئے تھے۔ بہت سے لوگ روایتی کونیاک لباس میں ملبوس تھے، خاص طور پر وہ جو کچھ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔ تقریب کو ابھی باضابطہ طور پر شروع ہونا باقی تھا۔ موسیقی کی آواز موسم بہار کی تازہ ہوا کو آہستہ آہستہ زندگی بخش رہی تھی۔
ناگالینڈ کے زیادہ تر کونیاک گاؤوں کی طرح شی انگھا چنیو ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ اس مقام کا انتخاب صدیوں پہلے اس لیے کیا گیا تھا، تاکہ دشمن کو دور سے دیکھا جا سکے۔ گاؤں کے منظر نامہ پر جا بجا مورنگ بنے ہوئے ہیں۔ ایک زمانے میں یہ مورنگ صرف مردوں کے لیے مخصوص تھے۔ گزرے زمانے کی شکار کی یاد دہانی کراتی جانوروں کی کھوپڑیاں مورنگ کی دیواروں پر سجی ہوئی ہیں۔ لکڑی اور بانس سے بنی ان کشادہ جھونپڑیوں میں اب خواتین آزادانہ طور پر آ جا سکتی ہیں، لیکن خود مورنگ کی ثقافت گزرے زمانے کی بات ہو چکی ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نوعمر لڑکے کونیاک مردانگی کے طور طریقے سیکھتے تھے۔ اب یہ ایک آرام گاہ ہے، ایک ایسی جگہ جہاں لوگ مل بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔
ضلع کے دیگر کونیاک گاؤوں کی طرح اس گاؤں کا انتظام و انصرام بھی برادری کے موروثی سربراہ اور ایک حالیہ کونسل کے منتخب اراکین کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ کونیاک لوگوں کا بنیادی پیشہ زراعت ہے اور اہم فصل دھان ہے۔ زمین انگھ کی ہے اور برادری اس زمین پر کام کرتی ہے اور اپنی زندگی گزارتی ہے۔

Sarbajaya Bhattacharya

Sarbajaya Bhattacharya

Swadesha Sharma

Swadesha Sharma
*****
آؤلیانگ تہوار کے لیے آئے لوگ ادھر ادھر چہل قدمی کرتے نظر آ رہے ہیں، اور کچھ سائے میں آرام کر رہے ہیں۔
ارین اپنا گیت ختم کرتی ہیں اور ٹیٹو بنانے کے عمل کو بیان کرنا شروع کرتی ہیں۔ پہلے مرحلہ میں کوئلے کے ایک ٹکڑے کو بھٹی میں گرم کرنا ہوتا ہے، جس کے اوپر ایک خالی برتن رکھ دیا جاتا ہے۔ دھواں اٹھتا ہے اور برتن کے اندر باقیات کی شکل میں سیاہی چھوڑ دیتا ہے، جسے کھرچ کر جلد پر ٹیٹو کا ڈیزائن بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یِنگ [اسٹروبیلانتھس پینسٹیمونائڈس] کے درخت کے کانٹے کو کونیاک فنکار یا تو چبھو کر یا ہتھوڑے کی طرح ضرب لگا کر ٹیٹو بناتے ہیں۔
کم عمری میں بطور نوآموزفنکار ارین اس فن میں اپنا ہاتھ آزمانے سے بہت گھبراتی تھیں۔ ’’میری انیا [ماں] نے مجھے یہ فن سکھایا،‘‘ ۸۶ سالہ بزرگ یاد کرتی ہیں۔
’’یِنگ کے درخت سے سیاہ روشنائی حاصل ہوتی ہے،‘‘ آرین ٹیٹو بنانے کی پیچیدگیوں کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں۔ اسے ٹیٹو بنانے کے لیے ضروری اوزار، یعنی کانٹوں کے ساتھ جمع کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد وہ کانٹے کو سیاہی میں ڈبو کر چبھونا شروع کر دیتیں۔ ’’خون اور سیاہی آپس میں گھل مل کر گہرا رنگ چھوڑ جاتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ٹیٹو بنے حصہ کو صاف کرنے کے لیے گرم پانی میں ڈوبا ہوا نرم کپڑا استعمال کیا جاتا تھا۔ عام طور پر ایک ٹیٹو بنانے میں پورا دن لگ جاتا تھا۔
ارین نے ۱۴۰ لوگوں کے ٹیٹو بنائے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے چھ گاؤوں کا دورہ کیا، جہاں ان کے شوہر سربراہ تھے۔ لیکن انہیں اپنا بنایا ہوا پہلا ٹیٹو آج بھی یاد ہے۔ ’’ایک لڑکی کی ٹانگوں پر اور ایک لڑکے کے سینے پر میں نے ٹیٹو بنائے تھے،‘‘ وہ اس بات پر مسکراتی ہیں، جو اب صرف ان کی یادوں میں رہ گئی ہے۔

Swadesha Sharma

Swadesha Sharma
*****
خواتین اور مردوں کے ٹیٹو ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔ خواتین اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں – آغاز بلوغت یا شادی کے موقعہ پر– ٹیٹو بنواتی تھیں۔ ان کے کچھ ٹیٹو خاندان کے مرد ارکان کی کامیابیوں کی یاد میں بھی بنائے جاتے تھے۔
’’کونیاک عورت کی زندگی بہت سی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ وہ اپنے باپ کے قبیلہ میں پیدا ہوتی ہے اور شادی کے بعد دوسرے قبیلہ میں چلی جاتی ہے۔ اس کے باوجود شادی سے پہلے جو ٹیٹو وہ بنواتی ہے، وہ ساری زندگی، یہاں تک کہ موت کے بعد بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ یہ وہ نشان ہوتا ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا، اور اسے بتاتا ہے کہ وہ کون ہے اور وہ کہاں سے آئی ہے،‘‘ امو کونیاک کہتی ہیں۔
مون علاقہ کی اس رہائشی کو اپنے دادا دادی کے ٹیٹو یاد ہیں۔ ’’بچپن میں، میں نے ٹیٹو بنانے کے عمل کے بارے میں اکثر کہانیاں سنی تھیں، یہ کیسے بنائے جاتے تھے، اس میں کتنی تکلیف ہوتی تھی، اور ٹیٹو بنائے جانے کے بعد لوگ کس قدر فخر محسوس کرتے تھے۔ یہ کہانیاں لوک کہانیوں کی طرح نسل در نسل چلی آتی ہیں، جو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ سنائی جاتی تھیں۔ میرے نزدیک یہ ٹیٹو یادداشت کے نقشوں کی طرح تھے، جو نہ صرف ان کی جلد پر نقش کیے گئے تھے، بلکہ اس بات کے مظہر بھی تھے کہ وہ کون تھے،‘‘ ۳۲ سالہ محقق مزید کہتی ہیں۔
امو کہتی ہیں کہ کونیاک روایتی طور پر سروں کا شکار کرنے والے (ہیڈ ہنٹر) لوگ تھے، اور ایک کامیاب مہم کے بعد فتح کی نشانی کے طور پر مردوں کی جلد پر ٹیٹو بنوائے جاتے تھے۔ اس حقیقت پر زیادہ توجہ کی وجہ سے خواتین کو اکثر کونیاک ٹیٹو کی تحقیق اور کہانیوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ وہ اپنی دادی کے ذریعہ بیان کی گئی ٹیٹو کی کہانیوں کو یاد کرتی ہیں، ’’وہ اکثر مجھے بتاتی تھیں کہ یہ عمل کتنا تکلیف دہ ہوتا تھا، جلد سے خون کیسے نکلتا تھا اور جلد پر کیسے ورم آ جاتا تھا، پھر بھی اس عمل کے بعد وہ کس قدر فخر اور کتنی خوبصورت محسوس کرتی تھیں۔‘‘
اسی گاؤں میں تھوڑے ہی فاصلہ پر نونپھے رہتی ہیں، جن کی عمر اب ۷۰ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنی بڑی بہن اور رشتہ داروں سے ٹیٹو بنانے کا ہنر سیکھا تھا، اور ان کی بہنوں نے اپنی ماؤں سے سیکھا تھا۔ تاہم، انہیں کبھی بھی بطور ٹیٹو فنکار کام کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ یہ اعزاز صرف ’ملکہ‘ یعنی پہلی بیوی کو حاصل تھا۔ نونپھے ٹیٹو بنانے میں ’ملکہ‘ کی مدد کرتی تھیں۔ وہ ٹیٹو فنکار کے لیے کانٹے اکٹھا کرتیں، کھانا پکاتیں اور ٹیٹو بنوانے والے شخص کو پکڑ کر رکھتیں، تاکہ وہ درد میں بہت زیادہ حرکت نہ کرے۔ نونپھے درد کے اظہار کی نقل کرتے ہوئے مسکراتی ہیں۔ پھر اپنی پرانی یادوں پر زور سے ہنستی ہیں۔
جب پاری نے ان سے ملاقات کی تو وہ انگھ کے احاطہ میں بنی بانس کی ایک جھونپڑی میں بیٹھی تھیں۔ وہاں ایسی کئی جھونپڑیاں تھیں۔ وہ نرم لہجے میں بات کرتی ہیں۔ ان کی آواز کبھی کبھی میلے کے میدان سے آنے والی خوشی کی شور میں ڈوب جاتی ہے۔ جب ہم نے ان کی تصویر لینے کی گزارش کی تو وہ خوشی سے اٹھیں اور رسمی اور روایتی لباس تبدیل کرنے اور زیورات پہننے چلی گئیں۔

Sarbajaya Bhattacharya

Ritu Sharma
ان کے کندھے، ٹانگ اور ہاتھوں پر بنے ٹیٹو ان کی شادی سے پہلے کے ہیں۔ ٹیٹو زیورات کی طرح ہوا کرتے تھے، یہ کہتے ہوئے وہ مزید بتاتی ہیں، ’’ان دنوں ہم جو کپڑے پہنتے تھے وہ لمبائی میں چھوٹے ہوتے تھے، اس لیے ٹیٹو ہمارے جسم کو ڈھانپنے کا ایک طریقہ تھے۔‘‘ نونپھے کا پسندیدہ ٹیٹو ان کے کندھے پر بنا ہوا ہے۔ ’’اسے میری ایک بہن نے بنایا تھا،‘‘ وہ مسکرا کر کہتی ہیں، ’’اسی لیے یہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔‘‘
انہوں نے اپنا پہلا ٹیٹو ایک نوعمر لڑکی کے طور پر ناگالینڈ کے مون ضلع کے اپنے آبائی گاؤں لیانہا میں بنوایا تھا۔ ’’مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی، اور میں رو پڑی تھی،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔
شادی کے بعد ان کا پہلا ٹیٹو ان کی ران پر بنا تھا، جسے ملکہ، انگھ کی پہلی بیوی، ارین نے بنایا تھا، جو ان کی سگی بہن تھیں۔ روایتی طور پرکونیاک سربراہ کئی شادیاں کر سکتا ہے، حالانکہ باقی برادری یک زوجیت پر عمل کرتی ہے۔
دوسری بیوی کے طور پر نونپھے کو کبھی بھی تو (ٹیٹو) نہیں بنانا پڑا۔ شی انگھا چنیو میں باورچی خانہ اور کھیتوں میں کام کے علاوہ وہ گھر کے بچوں کی بھی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

Swadesha Sharma

Swadesha Sharma

Swadesha Sharma

Swadesha Sharma
*****
ناگالینڈ میں عیسائی باپتست مشن سے سب سے پہلے رابطے تاملو، کنگ چِنگ، واک چنگ اور وان چنگ جیسے گاؤوں سے ہوئے تھے۔ عیسائیت کی آمد سے کونیاک طرزِ زندگی میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ شی انگھا چنیو کے کسان کیتھیئی کونیاک ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب کونیاک معاشرہ میں روایتی علاج عام تھا۔ ’’ہمارے پاس علاج کے لیے نہ تو ڈاکٹر تھے اور نہ ہی ہسپتال،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہماری برادری میں ہی معالج ہوا کرتے تھے۔‘‘
باپتست مشن نے ایک نئی تعلیم یافتہ نوجوان نسل تیار کی، جو ۱۹۴۶ میں کونیاک اسٹوڈنٹس یونین تشکیل دینے اور سماجی و مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کرنے والی تھی۔ یونین نے ہیڈ ہنٹنگ سے ٹیٹو کی وابستگی کی وجہ سے اس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور ۱۹۶۰ میں ٹیٹو کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔ ٹیٹو کو جہالت کی نشانی قرار دیا گیا، اسی طرح ان کی پرستش کے طریقہ کو اینیمزم (روح پرستی) کہا گیا، جیسا کہ پھیجن کونیاک نے اپنی کتاب ’دی کونیاکس: لاسٹ آف دی ٹیٹوڈ ہیڈ ہنٹرز‘ میں لکھا ہے۔

Swadesha Sharma

Sarbajaya Bhattacharya

Swadesha Sharma

Sarbajaya Bhattacharya
آج، اَمو کے مطابق، ان کی برادری کے زیادہ تر نوجوان روایتی طریقے سے بنائے جانے والے کونیاک نمونوں کی بجائے سوشل میڈیا، عالمی رجحانات یا ذاتی جمالیات سے متاثر جدید یا فیشن زدہ ٹیٹو ڈیزائنز بنواتے ہیں۔
کونیاک ٹیٹو اب صرف برادری کے بزرگوں کی جلد پر موجود ہیں؛ یہ روایت اب ارین اور نونپھے جیسے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے، جنہوں نے بچپن میں اسے سیکھا تھا، اور ان کے گیتوں میں بھی موجود ہے، جن میں شہزادیوں کو تکلیف دہ عمل کے بعد آرام کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
رپورٹر اس اسٹوری میں تعاون کے لیے سر پیئی ہوانگ وانسا کونیاک، پان ییئی ڈبلیو کونیاک اور لیمنیئی کونیاک کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔
ترجمہ نگار: شفیق عالم
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/konyak-tattoos-maps-of-memory-ur