’’یہاں دھان نہیں ہے، صرف سینیٹری پیڈ ہیں۔ اگر آپ انڈمان میں کہیں پر بھی زمین کھودیں، تو آپ کو صرف سینیٹری پیڈ ملیں گے،‘‘ سیما مذاق کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ان کی باتیں سن کر وہاں کھڑی چار دیگر عورتیں ہنسنے لگتی ہیں۔
وندور گاؤں کے تقریباً تمام گھروں میں زمین کا ایک کونا ایسا ہے، جہاں گھر کی عورتیں سینیٹری پیڈ زمین میں گاڑتی ہیں۔ اس جگہ کو ڈھونڈنا ان کے لیے مشکل نہیں ہے، وہاں کسی نشان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ منڈل فیملی کی لڑکیاں مجھے وہ جگہ دکھانے میں شرم اور جھجک محسوس کر رہی تھیں۔
سیما مزید بتاتی ہیں، ’’ہم ایک مہینہ تک پیڈ اکٹھا کرتے ہیں اور پھر مٹی میں گڑھا کھود کر انہیں دبا دیتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے گھر کے آس پاس ہی پیڈ گاڑتا ہے۔ ابھی کیچڑ بہت ہے، اس لیے ہم انہیں ایک کونے میں جمع کرتے ہیں اور بعد میں زمین میں گاڑ دیتے ہیں۔ کبھی ایک ہی گڑھے میں، کبھی نیا گڑھا کھودتے ہیں۔‘‘
جنوبی انڈمان ضلع کے مغربی حصہ میں ایک پختہ مکان کے سامنے پانچ عورتیں حیض سے متعلق کچرے اور اس کے نمٹارہ کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ منڈل فیملی کی سربراہ ۷۲ سالہ ارملا ہماری گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’کوئی ان باتوں پر چرچہ کیوں کرنا چاہے گا؟ ہم نے کبھی ان چیزوں پر بات نہیں کی۔‘‘ ان کی فیملی یہاں آباد ان بنگالیوں میں سے ہے، جو الگ الگ برادریوں سے آ کر نسلوں سے مرکز کے زیر انتظام اس علاقہ میں رہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’’ہمیں حیض کے بارے میں کبھی کسی نے بتایا ہی نہیں۔ وہ اسے بنگال میں ’ماسِک‘ کہتے تھے۔ جب یہ ہوا، تبھی ہمیں پتہ چلا۔ مجھے میری بڑی بہن نے بتایا۔ ہم اس دوران اسکول نہیں جاتے تھے۔ گھر سے نکل کر کسی مندر میں نہیں جاتے تھے۔ اور اپنے گھر میں کچن میں نہیں جاتے تھے۔ یہی اصول تھے۔ میں نے کبھی کوئی اصول نہیں توڑا، اس لیے نہیں جانتی کہ توڑنے پر کیا ہوتا ہے۔‘‘
منڈل فیملی کے مکان کے باہر بیٹھی عورتوں میں سبھی تین نسلیں شامل ہیں۔ ارملا، ان کی بہو سیما منڈل (۴۱)، سیما کی بیٹیاں، بانی (۱۷) اور شکھا (۲۱)۔ ساتھ ہی، ان میں ان کی رشتہ دار شیوانی منڈل (۳۳) بھی ہیں۔ یہ سبھی اپنی اپنی طرح سے ایک طویل عرصہ سے چلی آ رہی سماجی روایت کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہیں، جس پر اب بھی سوال اٹھانا ممکن نہیں ہے۔













