فروری ۲۰۲۵ کا کوئی دن تھا۔ روشن سداشیو کولے کے ایک دوست نے فون کر کے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ بطور کمپیوٹر آپریٹر کام کرنے کے لیے لاؤس آنا چاہیں گے۔ نوے ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ کی اچھی تنخواہ تھی اور سفر اور رہائش کے تمام اخراجات کمپنی برداشت کرنے والی تھی۔
اس دوست کا تعلق جموں و کشمیر سے تھا۔ اس نے بھی گزشتہ سال کمبوڈیا میں اپنا ایک گردہ فروخت کیا تھا اور اسی گروہ کا حصہ تھا جس گروہ میں روشن بھی شامل تھے۔ اس نے ابھی ابھی لاؤس میں ملازمت اختیار کی تھی۔
روشن نے گریجویشن کے بعد کمپیوٹر پروگرامنگ کا ایک کورس کیا تھا۔ کسی دفتر میں کام کرنے کا خیال انہیں پُرکشش لگا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے دوست نے مجھے بتایا کہ یہ کام جسمانی طور پر زیادہ محنت طلب نہیں ہوگا، اس لیے میں نے بھی اس پر غور کرنا شروع کر دیا۔‘‘
قرض کی ادائیگی کے لیے اپنا گردہ فروخت کرنے کے بعد بھی، سرجری سے صحت یاب ہونے کے دوران، روشن کو برہم پوری کے چھ ملزم ساہوکار مسلسل ہراساں کر رہے تھے۔
ان کا اپنا گھر چار مختلف مالیاتی اداروں کے پاس رہن رکھا جا چکا تھا۔ ان کے والد نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی سے جو زمین خریدی تھی، اسے چھ ساہوکاروں میں سے ایک نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ گھر کے دیگر اثاثے بھی فروخت کیے جا چکے تھے، اور ان سب کے باوجود قرض کی رقم ۱۰ لاکھ روپے سے زیادہ ہو چکی تھی۔
ان کے والد کی پنشن، ان کی بیوی کی آنگن واڑی سے ملنے والی تنخواہ، اور ان کے بھائی کی یومیہ اجرت یا کھیتوں میں مزدوری سے ہونے والی آمدنی بھی ناکافی تھی۔ روشن نے کچھ عرصے تک بینکنگ نامہ نگار کے طور پر کام کیا تھا، لیکن عالمی وبا کے دوران جب یہ ملازمت چلی گئی تو وہ دوبارہ کوئی کام تلاش نہیں کرسکے تھے۔
انہوں نے نوکری کی اس پیشکش کو قبول کر لیا۔














