ارجینا بی بی کی مغربی بنگال کے شمالی ۲۴ پرگنہ ضلع میں اپنے باپیر باڑی (والد کے گھر) کی سب سے پیاری یادیں ان کی دادی اور ماں سے جڑی ہیں۔ ’’میری کانتھا کی سلائی میں مجھے اپنی دادی کا ویسا ہی ہنر دکھائی دیتا ہے، جیسے وہ ٹانکوں کو پرتوں میں کراس کر کے لگاتی تھیں اور کشیدہ کیے ہوئے پھولوں کو بھرتی تھیں،‘‘ وہ وراثت میں ملے اپنے اس ہنر کے بارے میں کہتی ہیں۔ ’’میں جو کچھ بھی جانتی ہوں، وہ ان کو ہی دیکھ دیکھ کر سیکھا ہے۔ آج بھی میں ویسا ہی کام کرتی ہوں جیسا وہ کرتی تھیں،‘‘ ارجینا مزید کہتی ہیں۔
تقریباً تین دہائی سے کانتھا کشیدہ کاری کرتی آ رہیں ارجینا کہتی ہیں کہ اس ہنر نے انہیں اپنی فیملی کی مالی حالت کو بہتر کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اب چالیس سال کی عمر کے اواخر میں، وہ چھ خواتین پر مشتمل کانتھا کاریگروں کے گروپ کی قیادت کر رہی ہیں جنہیں مقامی تاجروں سے کام ملتا ہے۔
ہم ارجینا سے جولائی کی ایک گرم دوپہر کو، مغربی بنگال کے شمالی ۲۴ پرگنہ ضلع کے باراسات شہر کے باہری علاقہ میں ان کی پڑوسن اور ساتھ کام کرنے والی نور نہار بی بی کے گھر کے دیوان خانہ میں بنے ان کے عارضی کارخانہ (ورکشاپ) میں ملتے ہیں، جہاں دھاگوں کے ڈبے، قینچی اور ٹریسنگ پیپر بکھڑے پڑے ہیں۔ یہ عورتیں کپڑوں پر کانتھا کی خاص رننگ اسٹچ سے کشیدہ کاری کر رہی ہیں۔
’’میرے والد کانتھا سے متعلق سامان کے سپلائر ہیں،‘‘ ۳۵ سالہ نور نہار بتاتی ہیں۔ ’’میں کڑھائی کا کچھ کام کر کے ان کی مدد کرتی ہوں۔‘‘ ان کے شوہر محمد جلال الدین (۴۳) اور ان کا خاندان تین نسلوں سے کانتھا کے کاروبار سے جڑا ہوا ہے۔ ’’وہ بھی ایک ماہر کانتھا کاریگر ہیں اور بہت اچھی کشیدہ کاری کرتے ہیں،‘‘ نور نہار مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔
پاس ہی کھڑے جلال الدین کو چھیڑتے ہوئے ارجینا کہتی ہیں، ’’میئیرا بیشی بھالو بنائے، کیونو کہ آمرا مون دیئے شکیچی، آر مون دیئے کانتھا بنائی۔ چھیلیئرا تو ایئی شوب کے کاج مینے چولے [عورتیں بہتر کانتھا بناتی ہیں، کیوں کہ اس دستکاری سے ہمارا جذباتی رشتہ ہوتا ہے۔ مرد اسے صرف پیشہ مانتے ہیں]۔‘‘
















