دو شخص ایک پہاڑی پر چڑھتے ہوئے گھنی جھاڑیوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ یہ دونوں منی پور کے کانگپوکپی ضلع میں ۴۰ کوکی- زو قبائلی کنبوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے گاؤں ناہمُن گُنفائیجانگ میں اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۳ کے اس دن کا آسمان ابر آلود ہے اور ان کے چاروں طرف جنگلی جھاڑیوں سے ڈھکی پہاڑیوں کا خوبصورت منظر ہے۔
ابھی چند سال قبل یہ پہاڑیاں پوست (پیپیوَر سومنیفیرم) کے سفید، ارغوانی اور گلابی رنگ کے پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔
’’میں ۱۹۹۰ کی دہائی کے اوائل میں گانجا (کینیبِس سیٹائیوا) اگایا کرتا تھا، لیکن اس وقت اس میں زیادہ آمدنی نہیں تھی،‘‘ پاؤلال کہتے ہیں۔ وہ ایک کسان ہیں اور اس پہاڑی پر چڑھنے والے دو لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ’’۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں لوگوں نے ان پہاڑیوں میں کانی [پوست] کی کاشت شروع کی تھی۔ میں نے بھی وہ اُگایا، جب تک کہ کچھ سال پہلے اس پر پابندی نہیں عائد کر دی گئی۔‘‘
پاؤلال ۲۰۲۰ کے موسم سرما کا حوالہ دے رہے ہیں، جب ناہمُن گُنفائیجانگ کے سردار ایس ٹی تھانگبوئی کپگِین نے گاؤں میں پوست کی کاشت ختم کرنے اور کسانوں سے اس کی کھیتی پوری طرح سے بند کرنے کی اپیل کی۔ یہ ان کی طرف سے اٹھایا گیا کوئی یکطرفہ قدم نہیں تھا، بلکہ بی جے پی کی ریاستی حکومت کی ’منشیات مخالف جنگ‘ کی جارحانہ مہم کی حمایت میں لیا گیا ایک فیصلہ تھا۔
پوست سے انتہائی نشہ آور افیون بنائی جاتی ہے، جو بنیادی طور پر منی پور کے پہاڑی اضلاع جیسے چُورا چند پور، اُکھرول، کامجونگ، سیناپتی، تامینگلونگ، چاندیل، تینگنوپل کے ساتھ ساتھ کانگپوکپی میں کاشت کی جاتی ہے۔ کانگپوکپی میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق کوکی زو قبیلے سے ہے۔
یہ پانچ سال پہلے کی بات ہے، جب نومبر ۲۰۱۸ میں وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کی ریاستی حکومت نے ’منشیات مخالف جنگ‘ کا اعلان کیا تھا۔ بیرن سنگھ نے پہاڑی اضلاع کے گاؤں کے سرداروں اور چرچوں سے گزارش کی تھی کہ وہ ان علاقوں میں پوست کی کاشت پر روک لگانے کی مہم میں پیش قدمی کریں۔









