چدریا جھینی رے جھینی، چدریا جھینی رے جھینی
رام نام رس بھینی، چدریا جھینی رے جھینی
اشٹ کام کا چرکھا بنایا، پانچ ٹاٹ کی پونی
نو دس ماس بینن کو لاگے مورکھ میلی کینی
چدریا جھینی رے جھینی
[یہ چادر کتنی باریک، کتنی نفیس ہے۔
رام نام کے رس میں بھیگی ہوئی، آہ یہ چادر کتنی نفیس ہے۔
آٹھ پرتوں والے کنول کے چرخہ نے اس کا سوت کاتا،
اور پانچ طرح کے دھاگوں سے اسے بنایا گیا،
نو دس مہینوں کی بُنائی کے بعد، اے نادان تم نے اسے میلا کر دیا
یہ چادر بڑی نفیس، بڑی باریک بُنی گئی ہے…]
نہرو داس جی کی انگلیوں میں ایک نفاست اور بے عیب ہم آہنگی ہے، جو ہارمونیم کے کی بورڈ پر چلتے ہوئے موسیقی کے سُروں اور جذبات کا جال بُنتی ہیں، جب وہ کبیر کا ایک دوہا گاتے ہیں۔ آپ آسانی سے تصور کر سکتے ہیں کہ کبھی یہی انگلیاں کرگھے پر کس خوبصورتی سے رقص کرتی ہوں گی۔ اگرچہ اب ان کے لیے بُنائی سے زیادہ گانا فطری محسوس ہوتا ہے۔ وہ یہ ورثہ اپنے دو بیٹوں کو منتقل کر چکے ہیں۔ لیکن ایک کبیر پنتھی (یعنی پندرہویں صدی کے صوفی شاعر کبیر کے پیروکار) ہونے کے ناطے، وہ ہمیں اس گیت اور اپنے کام کے درمیان تعلق دکھانا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’’جس طرح خدا اس جسم کو بنانے میں وقت لیتا ہے، اسی طرح ماں کے رحم میں بچے کو پیدا ہونے میں نو مہینے لگتے ہیں۔ ہمارے کبیر صاحب اسی بات کو اور کپڑا بُننے کے عمل کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دنیا کو سمجھا رہے ہیں۔‘‘ نہرو داس (۷۸) خود کو بیگاچک کا سب سے معمر بُنکر کہتے ہیں۔






















