باورچی خانہ کے چولہے سے اٹھتا ہوا دھواں اور بھُنی ہوئی جوار کی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی ہے۔ ہُرڈا کا جشن منایا جا رہا ہے۔ تازہ کاٹی گئی جوار، جسے ہُرڈا کہا جاتا ہے، مراٹھواڑہ میں کافی مقبول ہے۔ کسان اپنے کھیتوں سے ہُرڈا لے کر گاؤوں اور قصبوں میں جگہ جگہ اسٹال لگاتے ہیں۔
جوار کی کھیتی کرنے والے لونڈھیاچی واڈی کے کسان سوریہ کانت میند کہتے ہیں، ’’لوگ اس کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔‘‘ وہ جالنہ ضلع میں اپنی پانچ ایکڑ زمین پر بیدری اور مالڈنڈی قسم کی جوار اُگاتے ہیں۔ ان کی فیملی دسمبر میں جب جوار کے دانے ابھی پوری طرح پکے نہیں ہوتے، تب فصل کے آدھے حصہ کی کٹائی کرتی ہے اور باقی فصل کی کٹائی فروری یا مارچ میں دانوں کے پوری طرح پک جانے کے بعد کی جاتی ہے۔
بڑے احتیاط سے کاٹی گئی نرم جوار (ہُرڈا) کو لے کر میند جالنہ شہر کی طرف نکلتے ہیں۔ میند (۵۵) بتاتے ہیں کہ وہ ہر سیزن میں تقریباً ۴۰ کلو ہُرڈا بیچتے ہیں، جس کی قیمت ۱۵۰ روپے فی کلوگرام ہوتی ہے۔
ٹھیلوں پر ہرڈا تیار کرنے میں عورتوں کا بڑا رول ہوتا ہے، جو ایک دھیما اور احتیاط سے کیا جانے والا عمل ہے۔ جوار کی نرم بالیوں کو گڑھے میں ڈال کر پرانی فصل سے بچے خشک جوار کے ڈنٹھلوں کی مدد سے بھُنا جاتا ہے۔ لکڑی کی بڑی چھڑیوں سے جوار کے گٹھوں کو الٹ پلٹ کر چاروں طرف سے سینکا جاتا ہے۔ اس دوران وقت کا صحیح اندازہ لگانا بیحد ضروری ہوتا ہے۔ چھترپتی سمبھاجی نگر (سابقہ اورنگ آباد) ضلع کے رہنے والے ۴۵ سالہ کسان بھیما نانا دَکھنے بتاتے ہیں، ’’جلدی نکالو تو کچا رہ جاتا ہے، زیادہ دیر رکھو تو سوکھ جاتا ہے۔‘‘
بھوننے کے بعد عورتیں جوار کے دانوں کو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان رگڑ کر ان کی بھوسی الگ کرتی ہیں۔ اس کے بعد پکانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ سویتا دکھنے کہتی ہیں، ’’صبح سے لے کر دیر شام تک میں باقی عورتوں کے ساتھ باورچی خانہ میں لگی رہتی ہوں۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم کچھ ایسا پیش کرتے ہیں جو براہ راست کھیتوں سے آتا ہے۔‘‘














