صبح کا وقت ہے اور کافی ٹھنڈ ہے، اس لیے منور پھاٹہ (جنکشن) پر بڑی تعداد میں کسان بجھتی ہوئی آگ کے ارد گرد پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پچھلی رات بھی کافی سردی تھی، اور صبح ہوئی تو اس میں کوئی بہتری دیکھنے کو نہیں ملی، جیسا کہ لکشمی دتّو بوبا بتاتی ہیں، ’’ایسا لگ رہا تھا گویا اوپر سے بارش ہو رہی ہو – ہمارے بدن پر ٹھنڈا پانی گر رہا ہو۔‘‘
ٹھنڈ جتنی شدید تھی، اس سے کہیں زیادہ شدید اس ۴۶ سالہ آدیواسی کسان کا غصہ تھا، جو زمین، پانی، اور اس سے بھی زیادہ اہم، مزدوری کے کام سے متعلق مسائل کو لے کر تھا۔ انہی کی طرح، ہزاروں مرد و خواتین نے اپنے زمینی پلاٹ کی باقاعدگی، پینے کے پانی، اور سب سے اہم، مزدوری کے کام کی فراہمی جیسے طویل مدتی مسائل کو حل کرانے کے لیے پالگھر ضلع کے کلکٹریٹ تک پیدل مارچ کیا۔ وہ بھی ایک باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اس لیے یہ معاملے ان کے لیے بہت ضروری ہیں۔
’’پورا سال تو چھوڑ دیجئے، ہمیں روجگار حامی یوجنا کے تحت ایک دن کا بھی کام نہیں ملتا،‘‘ غصے سے بھری ہوئیں لکشمی کہتی ہیں۔ ان کا اشارہ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (منریگا) کی طرف تھا۔ مرکزی حکومت نے حال ہی میں اس قانون میں ساختیاتی تبدیلیاں کی ہیں اور اس کا نام بدل کر ’وکست بھارت – جی رام جی ایکٹ (وی بی-جی رام جی) کر دیا ہے، جس میں کام کی قانونی ضمانت دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس پروگرام کے لیے رقم کی فراہمی کا زیادہ تر بوجھ ریاستوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
سی پی آئی (ایم) اور آل انڈیا کسان سبھا کی مہاراشٹر اکائی کے ذریعہ نکالے گئے اس احتجاجی مارچ میں شرکت کرنے والے ہزاروں کسانوں کا ایک کلیدی مطالبہ یہ تھا کہ انہیں کم از کم ۶۰۰ روپے کی یومیہ اجرت کے ساتھ ایک سال میں ۲۰۰ دنوں کا ضمانت شدہ روزگار دیا جائے۔ یہ مارچ ۱۹ جنوری، ۲۰۲۶ کو شروع ہوا تھا، اور ڈسٹرکٹ کلکٹر کے ذریعہ ہر ایک مطالبہ کو پورا کروانے کا وعدہ کرنے کے بعد اسے ۲۱ جنوری کو ختم کر دیا گیا۔












