چندرما، کاٹھ گولاپ (چمپا؛ فرینگپنی، یا پلومیریا روبرا) کے خوشبودار، کریمی سفید اور زرد پھولوں کو ایک لمبی مالا میں پرو رہی ہیں۔ ان کی تین سنہری نتھیں جو انہوں نے پہن رکھی ہیں، اپریل کی یہ تیز سنہری دھوپ ان کے ہاتھوں میں موجود چمپا کے پھولوں کے گہرے زرد مرکزی حصہ سے بھی زیادہ چمک رہی ہیں۔ وہ اور ان کی گدبا آدیواسی برادری کی ۲۰ دیگر خواتین، اوڈیشہ کے کوراپُٹ ضلع کے پوت پنڈی گاؤں کے ٹھیک باہر کھلی جگہ پر مالائیں پرونے میں مصروف ہیں۔ ان سب نے دو یا تین نتھیں پہن رکھی ہیں۔
’’یہ جو نتھ دائیں طرف ہے، اسے ہم بیسری کہتے ہیں، درمیان والی کو دوندی، اور بائیں والی کو نتّو۔ میں اسے ہمیشہ ہی پہنتی آئی ہوں۔ شاید، میں انہیں پہن کر ہی پیدا ہوئی تھی،‘‘ ۷۰ سال کی چندرما گدبا ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ ان کی دوندی تھوڑی اوپر اٹھتی ہے، جس سے ان کے نچلے ہونٹ جھلکتے ہیں، جو عام طور پر ان کی ناک کے درمیانی حصہ سے لٹکی سونے کی گھنٹیوں سے ڈھکے رہتے ہیں۔
’’پہلے ہمارے گدبا قبیلہ میں، لڑکیوں کو بہت چھوٹی عمر میں ہی یہ تینوں نتھیں پہنا دی جاتی تھیں۔ لیکن اب وہ دیر سے ناک میں سوراخ کرواتی ہیں – عموماً پانچ یا دس سال کی عمر کے بعد۔ اور کبھی کبھی تو نوجوان لڑکیاں ناک میں سوراخ کروانا پسند ہی نہیں کرتیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ہر جملے کے ساتھ ان کے ہنرمند ہاتھ تازہ توڑے گئے پھولوں کی ایک لڑی مالا میں پروتے رہتے ہیں۔ یہ مالائیں شام کو تب کام آئیں گی جب مرد شکار سے لوٹیں گے اور ان کا استقبال ہوگا۔ یہ چَیت پرب (یا چیتر پَرو) کا وقت ہے۔
چیت پرب ۱۴ دن تک چلنے والا زرعی تہوار ہے، جسے اوڈیشہ اور جھارکھنڈ کے کئی آدیواسی قبیلے مناتے ہیں۔ یہ چیتر مہینہ کی شروعات کا اشارہ ہے، جو ہندو کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے۔ تہوار کا وقت، یعنی اپریل کا وسط، روایتی طور پر کھیتوں کے کام سے چھٹی کا وقت ہوتا ہے، جب ہوا میں گرمیوں کے گیت اور موسمی پھل پھولوں کی خوشبو بھری ہوتی ہے۔ گدبا برادری کی نوجوان اور بزرگ عورتیں گیت گاتی ہیں، رقص کرتی ہیں، شراب پیتی ہیں، گاؤں کے دیوتاؤں کو کچے آم چڑھاتی ہیں اور شکار پر گئے مردوں کے استقبال کے لیے مالائیں گونتھتی ہیں۔








