’’لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر آپ کپڑے پر کچھ بنا رہے ہیں، تو یہ وارلی پینٹنگ ہی ہوگی۔ لیکن وہ [غیر وارلی فنکار] ہمارے دیوتاؤں کی پینٹنگ بنانا نہیں جانتے، وہ ہماری کہانی نہیں جانتے،‘‘ مشہور وارلی فنکار جِویا سوما مشے (۱۹۳۴-۲۰۱۸) کے بیٹے، سدا شیو نے یہ بات تب کہی تھی، جب مئی ۲۰۱۵ میں پالگھر ضلع کے دہانو تعلقہ میں واقع ان کے گاؤں گنجڈ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔
وارلی طرز کی پینٹنگ اب ہمیں نمائشوں، ہوٹلوں، بیٹھکوں میں، دوپٹوں اور ساڑیوں اور کھانے کے برتنوں پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن ان کو بنانے والے اکثر غیر وارلی ہوتے ہیں۔ حالانکہ، حقیقت یہ ہے کہ یہ وارلیوں کی وراثت ہے اور وہی اس کو تحفظ فراہم کرتے آئے ہیں۔ وارلی ایک آدیواسی کمیونٹی ہے، جو مہاراشٹر اور گجرات کی سرحد کے دونوں جانب رہتے ہیں۔ مہاراشٹر میں ان کی رہائش دھولے، ناسک اور پالگھر جیسے ضلعوں میں ہے، جب کہ گجرات میں یہ لوگ عموماً ولساڈ میں رہتے ہیں۔


