دُلیشوری سرین کے راشن کارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش یکم جنوری ۱۹۶۳ درج ہے۔ لیکن کمزور پڑ چکیں یہ بزرگ خاتون اصل میں کافی بوڑھی ہیں۔ ان کی ۱۶ سال کی پڑپوتی، پرملا کسکو کہتی ہیں، ’’وہ تقریباً ۱۰۰ سال کی تو ہوں گی۔‘‘
ہم مغربی بنگال کے شانتی نکیتن کے باغان پاڑہ محلہ میں ان کے گھر کے باہر بیٹھے ہیں۔ یہاں کی گھماؤدار گلیوں میں آوارہ کتے اور پالے گئے مرغے مرغیاں ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ کتے آرام سے پڑے رہتے ہیں، جب کہ مرغے مرغیاں زمین کریدنے میں لگی رہتی ہیں۔
’’شانتی نکیتن…آمار ناتنیر نام [شانتی نکیتن میری نواسی کا نام ہے]۔ یہ کہتے ہوئے دُلیشوری کی آواز دھیمی پڑ جاتی ہے۔ پھر وہ اپنے چھوٹے کٹے ہوئے سفید بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے مسکراتی ہیں۔
’’اوکون ہوئی چھیلے [مجھے جوئیں ہو گئی تھیں]،‘‘ وہ ہمیں بتاتی ہیں۔ ’’کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ بیٹھ کر انہیں نکالے؟ اس لیے اس نے میرے بال کاٹ دیے،‘‘ دُلیشوری مسکراتے ہوئے اپنے پاس بیٹھی پرملا کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ’’یہ [پرملا] روز میرے لیے چائے بناتی ہے اور میرے ناخن بھی کاٹتی ہے،‘‘ دُلیشوری پیار سے کہتی ہیں۔








