سُڈلئی کالی یا شمشان کی دیوی کی تعظیم میں اپنے دانتوں سے ہلاک کر کے مرغ کی قربانی دینے کے بعد، وہ اپنے دانتوں تلے تورپّو (بکری کے پھیپھڑے) کو دباتی ہیں اور بائیں ہاتھ سے درانتی کو ہوا میں لہراتے ہوئے تال کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ کالی ساڑی میں ملبوس ایشوریہ ایک مصروف سڑک پر پمبئی اور پرئی ڈھول کی آوازوں پر رقص کرتے ہوئے دیوی پُترو پُنکاونتّو امّن مندر سے تیرو ولم شہر میں دریائے پونئی تک جاتی ہیں۔ جلوس کی قیادت کرنے والی تھکی ماندی تیروننگئی (تمل میں ٹرانس خاتون) جب خشک دریا کے کنارے پہنچتی ہیں تو غش کھا کر گر جاتی ہیں۔ یہ محض ایک ’پیش کش‘ نہیں ہے، حالانکہ ۳۷ سالہ ایشوریہ کی اپنی ایک ڈرامہ کمپنی ہے۔ دن کے اختتام پر ڈرامہ اسٹیج ہونے میں ابھی بھی کئی گھنٹے باقی ہیں۔
وہ تمل ناڈو کے ویلور ضلع کے اس گاؤں میں دلت برادریوں کے ذریعہ تمل مہینہ ماسی (مارچ) میں اماواسئی (نئے چاند) کے دوران منعقد کی جانے والی سالانہ تقریب میان کولّئی (شمشان کے تہوار) میں موجود ہیں۔ ریاست میں درج فہرست ذات کے طور پر درج چَکّی لیئر برادری سے تعلق رکھنے والی ایشوریہ گزشتہ دو دہائیوں سے مندر کی اس تقریب کی رسومات میں حصہ لے رہی ہیں۔
’’وہ میں نہیں تھی جو اس دیوانگی کے ساتھ رقص کر رہی تھی،‘‘ وہ بعد میں کہتی ہیں، ’’مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں ہے۔ وہ امّن تھیں جنہوں نے مجھے قابو میں کر لیا تھا۔‘‘ امّن، ایک دیوی ہیں جنہیں کالی کے مظہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور مقامی برادری ان کی پوجا کرتی ہے۔ رسومات کے اختتام پر رات ۱۰ بجے آخری پیشکش شروع ہو گی۔
رات کا منظر قدرے مختلف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایشوریہ نے اپنی طاقت دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ اب وہ سڑک کے بیچ میں۱۰x۱۲ فٹ اونچے اسٹیج کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ میلے کے منتظمین کو بینر لگانے کی ہدایت دے رہی ہیں اور ۵۰۰ واٹ کی دو لائٹیں لگانے کے لیے صحیح جگہ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ’’ان دونوں کو جو اسٹیج کی طرف ہیں، ذرا ترچھا باندھو،‘‘ وہ حکم دیتی ہیں۔ وہ اسٹیج مینیجر، کاسٹیوم ڈیزائنر، لائٹ ڈیزائنر، ڈائریکٹر، ڈرامہ نگار، اور ڈرامہ گروپ کی سربراہ ہیں۔ ایشوریہ اپنے آپ میں ایک فوج کی مانند ہیں جو ’اشوک ناٹک منڈرم‘ کے نام سے ایک ڈرامہ کمپنی چلا رہی ہیں۔ یہ نام اسٹیج پر لگے کپڑوں کے بینر پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے۔



