’’ہم نے یہ کھانا گیس پر پکانے کا ارادہ کیا تھا،‘‘ ریاض احمد بجھتے ہوئے انگاروں کو خاموشی سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’لیکن قلت کی وجہ سے مجھے گیس کے بجائے لکڑی استعمال کرنا پڑی۔ اب اس پر تقریباً دوگنا خرچ آ رہا ہے۔‘‘
ریاض احمد انچاری (۵۰) ایک ’وازہ‘ ہیں، یعنی روایتی کشمیری باورچی۔ درحقیقت وہ یہاں اپنے ایک دوست کی بہن کی شادی میں ہیڈ وازہ (سربراہ باورچی) کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ مگر اس وقت وہ ایک ایسے مسئلہ سے دوچار ہیں جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔
یہاں سے تقریباً ۳۰۰۰ کلومیٹر دور واقع ایران میں جاری جنگ، کشمیر کی شادیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
پہلے، گھر میں چاروں طرف چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ کچھ لوگ روایتی گیت گا رہے تھے تو کچھ رقص میں مصروف تھے، جب کہ ان میں سے چند لوگ مہمانوں کی خاطر مدارت کے لیے ادھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔ گھر پر لگی رنگ برنگی روشنیوں کی لڑیاں رات میں دلکش نظارہ پیش کر رہی تھیں۔
مجھے ہمیشہ سے وازوں میں، ان کی کہانیوں، ان کی نسل در نسل منتقل ہونے والی تراکیبِ پکوان میں خاص دلچسپی رہی ہے۔ اسی دلچسپی کے باعث رات تقریباً گیارہ بجے، جب وہ شادی کے لیے کھانا تیار کر چکے تھے، میں ان باورچیوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔
ہر وازہ اپنے فن میں بے مثال مہارت رکھتا ہے۔ ایک گوشت کو حیرت انگیز مہارت اور نفاست سے کاٹنے کا ماہر ہے۔ دوسرا دھیمی آنچ پر پکنے والے کھانوں کے وقت اور مراحل کو بخوبی سمجھتا ہے۔ جب کہ ایک اور باورچی مصالحوں کی ایسی فطری سمجھ رکھتا ہے کہ صرف ایک نظر میں بتا سکتا ہے کہ کس پکوان میں کون سا ذائقہ کم ہے۔











