تُکا رام ماسل اپنی موٹر سائیکل پر دو بڑے پلاسٹک کے ڈبے باندھ کر ڈیزل خریدنے شہر کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے ٹریکٹر سیدھے پٹرول پمپ پر کیوں نہیں لے جاتے؟
’’اس سے ایندھن اور پیسے دونوں برباد ہوں گے،‘‘ ماسل کہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک ٹریکٹر زیادہ سے زیادہ پانچ کلومیٹر فی لیٹر ڈیزل کا اوسط دیتا ہے اور ’’اب ڈیزل کی قیمت تقریباً ۱۰۰ روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔‘‘ اس کے علاوہ انہیں کئی پٹرول پمپوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
ڈیزل کی راشننگ شروع ہو گئی ہے۔
مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ دھاراشیو ضلع کے بھوم قصبہ سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر دور واک وَڈ گاؤں کے ۵۳ سالہ کسان ماسل کہتے ہیں، ’’وہ ہر بار صرف کچھ لیٹر ڈیزل ہی دیتے ہیں۔‘‘
’’میں پانچ الگ الگ پٹرول پمپوں پر جا کر ڈیزل خریدتا ہوں، تاکہ کم از کم ۲۰-۲۵ لیٹر جمع کر سکوں، جو ایک دن کے لیے کافی ہو،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ بھوم اور اس کے آس پاس پٹرول پمپ بہت کم ہیں۔
کچھ دنوں میں ماسل ڈیزل کی تلاش میں ایک پمپ سے دوسرے پمپ تک ۷۰-۸۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اور تب بھی میں خود کو خوش قسمت مانتا ہوں، بشرطیکہ ہر دو تین دن میں کچھ ڈیزل مل جائے۔‘‘ کئی بار پٹرول پمپ کے ملازم پلاسٹک کے ڈبوں میں ڈیزل بھرنے سے بھی منع کر دیتے ہیں اور ٹریکٹر کو سیدھے پمپ پر لانے کی شرط رکھتے ہیں۔











