دسمبر ۲۰۱۹ میں ۵۰ سالہ سبھاش بکِّڑ، جو تقریباً دو دہائیوں تک چھترپتی سمبھاجی نگر میں قائم ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ٹرک ڈرائیور رہے تھے، اپنی زندگی کے ایک نئے اور بلند سفر پر روانہ ہوئے۔
’’میں نے دو دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی ٹرانسپورٹ کمپنی قائم کی اور تین ٹرک اور کنٹینر خریدے۔ ہم تینوں ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے اور ملک بھر میں ٹرک چلا چکے تھے۔ پونے میں مقیم ایک دوست نے ضامن بن کر ہماری مدد کی،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔
یہ صرف بکّڑ اور ان کے شراکت داروں کی ڈرائیور سے مالک بننے کی حیرت انگیز کہانی کا آغاز نہیں تھا، بلکہ ان کے گاؤں سارنی سانگوی کے ۸۰ نوجوانوں کے لیے بھی ایک نئے دور کی شروعات تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ۱۴۶۰ افراد پر مشتمل اس گاؤں میں تقریباً ہر چوتھا گھرانہ ٹرکوں کے کاروبار سے وابستہ ہو چکا تھا۔ سارنی سانگوی، خشک سالی سے متاثرہ بیڈ ضلع کی کیج تحصیل کا ایک جڑواں گاؤں ہے۔
سال ۲۰۲۵ تک سارنی سانگوی ٹرکوں اور ٹرک کنٹینروں (جنہیں شپنگ یا کارگو کنٹینر بھی کہا جاتا ہے) کا گاؤں بن چکا تھا۔ ان ۸۰ افراد کی مشترکہ ملکیت میں ۴۰۰ ٹرک اور لوڈنگ کنٹینر تھے۔ کاروبار تیزی سے فروغ پایا اور ملک کی کئی بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے انہیں اپنا کام آؤٹ سورس کرنا شروع کر دیا۔ بہت سے لوگوں نے ایک دوسرے کی ضمانت پر قرض حاصل کر کے کامیابی کی منزلیں طے کیں۔ اور، گاؤں کے سرپنچ سنیل کیدار نے پاری کو بتایا، ’’ہم نے دیوالی کے موقع پر کھیتوں میں تمام ٹرکوں کی پوجا کر کے جشن منایا۔‘‘
یوں ٹرک اور کنٹینر اس گاؤں کے نئے دیوتا بن گئے تھے۔
لیکن، آج ان میں سے بہت سے ٹرک اور کنٹینر اپنی منزلوں پر یا مختلف شاہراہوں پر کھڑے ہیں۔ گاؤں میں ہمیں ان میں سے بہت کم نظر آئے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے سارنی سانگوی کی خوشحالی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی دیگر عوامل، خصوصاً سڑکوں پر عائد متعدد اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے باعث کمزور پڑ چکی تھی۔







