سُگُنا کی کہانی
ونکّم! میرا نام سُگُنا ہے۔ میں یہ کام ۲۰۰۸ سے کر رہی ہوں۔ میں نے بہت چھوٹی سی عمر میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔
میرے والد کے گزرنے کے بعد، میری والدہ نے گڑیا بنانے والی قریبی فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ گڑیوں کو گھر لے آتی تھیں، اور یہی وہ وقت تھا جب میں پہلی بار ان کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ چار سال کی عمر کے بعد میں اسکول سے زیادہ گڑیوں کی طرف راغب تھی۔ میں حیران ہوتی تھی کہ انہیں کیسے بناتے ہیں؟ وہ کس چیز سے بنتی ہیں؟
جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو میری دادی نے کہا، ’’تم اب اسکول نہیں جا سکتی، میں تمہاری دیکھ بھال نہیں کر سکتی۔‘‘ انہوں نے مجھے اپنی بہن کے ساتھ اسی فیکٹری میں کام کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس وقت میری عمر ۱۰ سال تھی۔
پہلے تو مجھے صرف مٹی کو ملانے اور اسے چھاننے کی اجازت تھی، گڑیوں کو چھونے کی نہیں۔ دو سال بعد میں نے سانچوں میں مٹی ڈالنا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ میں نے کاسٹنگ کرنا بھی سیکھ لیا۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد اور بہتر کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ تب میں نے اس فن کو سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
مجھے سیکھنے میں چار سال لگے۔ میں نے ۱۴ سال کی عمر میں یہ کام شروع کیا، اور اس دوران روزانہ ۷۵ روپے کماتی تھی۔ فنکار ۱۰۰ روپے کماتے تھے، اور جب میں نے اسی رقم کا مطالبہ کیا تو مجھ سے کہا گیا کہ تم ابھی چھوٹی ہو۔ تو میں نے وہ کام چھوڑ دیا۔
بعد میں، میں نے کنٹریکٹ پر کام کرنا شروع کیا۔ تقریباً ۱۰ کمپنیوں نے مجھے اپنے آرٹ کے آرڈر دیے۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ اگر ہم اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہیں، تو ہمارا کام ہمیں اوپر تک لے جائے گا۔
آہستہ آہستہ لوگ میری عزت کرنے لگے۔ ان دنوں، صرف فنکار ہی میزوں پر بیٹھتے تھے۔ دوسرے کارکن فرش پر بیٹھتے تھے۔ لیکن وہی لوگ جنہوں نے مجھے ایک بار نکال دیا تھا مجھے واپس بلانے لگے۔ میری فنشنگ – آنکھیں، ہونٹ، چھوٹی چھوٹی تفصیلات – نے میرے کام کو نمایاں کر دیا۔
لیکن کچھ جگہیں ناقابل برداشت تھیں۔ جس طرح وہ خواتین کو دیکھتے تھے، جس طرح انہوں نے ہمارا مذاق اڑایا، میں نے وہاں واپس جانے سے انکار کر دیا، چاہے کتنی بھی بڑی تنخواہ کیوں نہ ہو۔
اپنے شوہر سے میری ملاقات ایسی ہی ایک فیکٹری میں ہوئی تھی۔ وہ بیرون ملک جانا چاہتے تھے، لیکن میں نے ان سے کہا، ’’اگر ہم شادی کرتے ہیں، تو آپ کو میرے ساتھ رہنا پڑے گا اور یہ کمپنی چلانا پڑے گی۔‘‘ بس یہی میری شرط تھی۔
مجھے یہ کام اتنا پسند کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ یہ مٹی کا کام ہے، میں مٹی کو شکل دیتی ہوں، اسے زندہ کرتی ہوں، اور لوگ اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اس سے ملنے والی خوشی سے مجھے اس کام کو جاری رکھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔