’’بجلی کی مشینیں ان روایتی تکنیکوں کو ختم کر دیں گی،‘‘ رائلی بائی کی آواز دہی کو متھتے ہوئے ہانڈی میں اٹھتی چھپک چھپک کی آوازوں کے درمیان ابھرتی ہے۔ وہ نیترا – ایک موٹی سوتی رسی، جس کے دونوں سروں پر پکڑنے کے لیے ہتھّے بنے ہیں – کو کھینچتے ہوئے دہی متھ رہی ہیں۔ پیچھے پہاڑی پر پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دے رہی ہے۔
راجستھان کے سروہی ضلع کے اُپلا گڑھ گاؤں میں اس وقت صبح کے تقریباً ساڑھے پانچ بجے ہیں۔ یہ گاؤں گجرات کی سرحد کے پاس واقع ہے۔ یہ علاقہ پہاڑی ہے اور گاؤں کی کنکریٹ کی بنی گلیاں اوپر نیچے جاتی ہیں، جس سے موٹر سائیکل، جو یہاں آمد و رفت کا سب سے عام ذریعہ ہے – چلانا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ نیچے چھت والے کچھ پکّے اور کچھ کچّے گھر گلیوں کے دونوں جانب ایک قطار میں دکھائی دے رہے ہیں۔ رائلی بائی کا دو کمرے، ایک باورچی خانہ اور ایک برآمدے والا پکّا گھر بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن ان کا گھر بستی کے اندر نہیں ہے، بلکہ ایک چھوٹی پہاڑی یا مگرا پر ہے، اور یہاں تک صرف پیدل ہی پہنچا جا سکتا ہے۔
رائلی بائی کی طرح ہی گاؤں کے زیادہ تر لوگوں کا تعلق گراسیا برادری سے ہے، جسے ریاست میں درج فہرست قبیلہ کا درجہ ملا ہوا ہے۔ چالیس سال سے زیادہ کی عمر کی رائلی بائی کبھی اسکول نہیں گئیں۔ یہاں کے لیے یہ غیر معمولی بات نہیں ہے۔ سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، اُپلا گڑھ میں صرف ۱۰ فیصد خواتین اور ۲۷ فیصد مرد خواندہ ہیں۔








