اس مضمون کو پُلٹزر سنٹر کے آرٹی فیشیل انٹیلی جنس اکاؤنٹی بلیٹی نیٹ ورک کا تعاون حاصل ہے
شمالی ہند کی ریاست جھارکھنڈ میں باسِنگ مُنڈا اپنے کھیت میں کھڑے ہیں۔ اس کھیت کے چاروں طرف لگے یادگاری پتھر ان کے اجداد کی یاد میں بنائے گئے ہیں۔ کئی نسلوں قبل باسِنگ کے اجداد ۱۸۹۹ کی مُنڈا بغاوت میں شامل ہوئے تھے۔ اس بغاوت کی قیادت آدیواسی لیڈر بِرسا مُنڈا نے کی تھی۔ یہ بغاوت انگریزی حکومت کے ذریعہ آدیواسیوں کو ان کی زمین اور حقوق سے بے دخل کیے جانے کے خلاف تھی۔
ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد، مُنڈا قبیلہ سے تعلق رکھنے والے باسِنگ جیسے آدیواسی کسان ایک نئی قسم کی بے دخلی کا سامنا کر رہے ہیں۔ چالیس کی عمر پار کر چکے باسنگ کی زمین کے ریکارڈ کو حکومت نے ڈیجیٹل کر دیا ہے، لیکن نہ تو ان سے رضامندی لی گئی اور نہ ہی باسنگ کو کوئی اطلاع دی گئی۔ اس پورے عمل میں سینکڑوں کسانوں نے پایا کہ سرکاری کاغذوں میں ان کی زمین کا رقبہ اچانک کم ہو گیا ہے اور کھیتوں کی حدیں بدل گئی ہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ ان کے مالکانہ حق کی حالت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
اپریل کا مہینہ ہے اور ریاست کی راجدھانی رانچی سے تقریباً ۳۳ کلومیٹر دور کھونٹی ضلع کے دَرگاما جانے والی سڑک کے دونوں جانب موسم بہار کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ قدرت سے آدیواسیوں کی عقیدت کے جشن ’سَرہُل‘ کے کچھ ہی دن بعد مقامی بازار چہل پہل سے بھرا ہوا ہے۔
اپنے گھروں کے باہر ایک کھلی جگہ میں باسنگ اور کئی دوسرے لوگ پلاش (ڈھاک) اور پیپل کے درختوں کے سایہ تلے اپنی مُنڈاری زبان میں بات کر رہے ہیں۔
سال ۲۰۲۳ میں باسنگ کو کھونٹی میں واقع محکمہ اراضی و مالیات کے دفتر سے آن لائن ٹیکس کی ایک رسید موصول ہوئی۔ یہ دفتر یہاں سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ اس رسید میں باسنگ اور ان کے بھائیوں کی اُس زمین کی غلط تفصیلات درج ہیں، جس پر فیملی دھان اور موٹے اناج کی کھیتی کرتی ہے۔ رسید پر کل ۵۲ ایکڑ ۵۲ ڈسمل کی جگہ ۵۲ ایکڑ ۵ ڈسمل لکھا ہوا تھا۔
وسطی اور مشرقی ہندوستان میں، ڈسمل زمین کی پیمائش کی ایک مروجہ اکائی ہے۔ ایک ڈسمل ۶ء۴۳۵ مربع فٹ یعنی ایک ایکڑ کا ۱۰۰واں حصہ ہوتا ہے۔ حالانکہ، ’ڈسمل‘ لفظ بھی ’ڈیسیمل‘ سے ہی بنا ہے۔ آسان لفظوں میں بات کریں تو، ایک ڈسمل ممبئی جیسے شہر میں اوسط قسم کے ایک بیڈ روم والے فلیٹ جتنی جگہ کے برابر ہوتا ہے۔ اور ایک جھٹکے میں سرکاری ریکارڈ میں باسنگ کی زمین کو بغیر کسی اطلاع کے ۴۷ ڈسمل کم کر دیا گیا۔
اور اس میں باسنگ اکیلے نہیں تھے۔
باسنگ کہتے ہیں، ’’زمین کے ریکارڈ میں کئی طرح کی گڑبڑیاں ہوئی ہیں۔ ڈیجیٹائزیشن سے پہلے ہماری زمین کا رقبہ الگ تھا۔ حال کے آن لائن ریکارڈ اور رسیدوں میں کچھ پلاٹ ہٹا دیے گئے ہیں اور کل رقبہ کم کر دیا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرتے وقت زمین کے مالکوں کو کوئی اطلاع نہیں دی جاتی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ان غلطیوں کا علم اچانک ہی ہوتا ہے۔














