جب کروز کشتی سجنے کھالی ٹائیگر ریزرو، پیر کھالی اور ڈوبنکی ٹائیگر ریزرو سے ہو کر گزرتی ہے، تب بھانومتی کے پاس ارد گرد کے نظارے دیکھنے کا وقت بھی نہیں ہوتا ہے۔ دور دور تک پانی، واچ ٹاور اور درختوں پر چہچہاتے پرندے، سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے دھندلا ہو جاتا ہے۔ کروز کشتی پر باورچی کے طور پر کام کرنے والی بھانومتی اور ان کے جیسے دیگر باورچی اور ان کے معاون ہمیشہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ آلو، دال اور انڈے ابالنے ہوتے ہیں، لہسن اور ادرک کاٹنے ہوتے ہیں، اور طرح طرح کے مسالوں کو کوٹ کر پیسٹ بنانا ہوتا ہے۔ یہ سب کئی قسم کے کھانے کی تیاریوں کے لیے کرنا ہوتا ہے۔
دن کے چڑھنے کے ساتھ ساتھ گرمی بڑھتی جاتی ہے اور کشتی کے باورچی خانہ میں کام کرنے والی خواتین کو تھوڑی تھوڑی دیر میں آرام کرتے ہوئے خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ ’’تارا تاری ہاتھ چالا [جلدی جلدی کام کرو]،‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتی ہیں۔ ’’جیسے ہی موٹر چالو ہوگا، ہم بھی ابلنے لگیں گے،‘‘ لپیکا منڈل ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ وہ بھی ایک باورچی ہیں اور کبھی کبھی ہیلپر کا کام بھی کرتی ہیں۔ وہ موٹر کی گرمی کی بات کر رہی ہیں، جس سے کشتی کا باورچی خانہ، جو موٹر کے پاس ہی ہوتا ہے، مزید گرم ہو جاتا ہے۔ عورتیں بتاتی ہیں کہ گرمی بہت تیز ہوتی ہے اور اس سے راحت پانے کے لیے انہیں فرصت کے پانچ منٹ بھی نہیں ملتے ہیں۔
یہ کروز کشتیاں پاکھیرالیہ گاؤں سے روانہ ہوتی ہیں، جو کولکاتا سے تقریباً ۱۱۰ کلومیٹر دور سندربن کے گوسابا جزیرہ پر واقع ہے۔ یہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور سندربن کے کثیف جنگلاتی علاقہ، جہاں بنگال ٹائیگر (پینتھیرا ٹگریس) دیکھے جا سکتے ہیں، تک پہنچنے کا داخلی دروازہ بھی ہے۔
ٹور آپریٹر عام طور پر ایک کشتی پر تقریباً ۴۰ سیاحوں کو لے جاتے ہیں۔ ہر چھ گھنٹے کے کروز کا کرایہ فی مسافر تقریباً ۲۰۰۰ سے ۵۰۰۰ روپے کے درمیان ہوتا ہے۔ دو دنوں تک چلنے والا لمبا کروز اس سے زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ کشتی میں عام طور پر دو ڈیک ہوتے ہیں اور نچلے حصہ میں بستر اور تکیے ہوتے ہیں، جہاں سیاح دن کی گرمی میں آرام کر سکتے ہیں۔










