ایک پرانے ڈرامے کا مسودہ ہاتھ میں لیے اسیت پرمانک کہتے ہیں، ’’میں نے اِچّھے کُسم ڈرامہ میں ایک بنکر کا کردار ادا کیا تھا…بالکل وہی جو میں حقیقی زندگی میں ہوں۔‘‘ اپنے گھر میں لوہے کی رنگ برنگی الماریوں کو کھنگالتے ہوئے، وہ احتیاط سے رکھے بہت سے ڈراموں کے مسودوں کی کاپیاں نکالتے ہیں۔
اسیت دا نادیہ ضلع کے شانتی پور ہینڈلوم کلسٹرز کے بے شمار بنکروں میں سے ایک ہیں۔ شانتی پور اپنی منفرد ٹنگائل اور جامدانی ہینڈلوم کی ساڑیوں کے لیے مشہور ہے۔ اس ماہر بنکر کی لوم پر مشقت تھیٹر سے ان کی محبت کے متوازی چلتی ہے۔ چھ دہائیوں پر مشتمل ان کی زندگی کا تانا بانا تانت گھر (کرگھے والا کمرہ) اور رنگ منچ (اسٹیج) کے درمیان بُنا جاتا ہے۔
اپنی پہلی بڑی اسٹیج پیشکش کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسیت دا کی باچھیں کھل اٹھتی ہیں۔ ’’یہ ڈرامہ سیالدہ اسٹیشن کے آس پاس کہیں اسٹیج کیا گیا تھا۔ حالانکہ میں ایک جج کا کردار ادا کر رہا تھا، لیکن سچ تو یہ ہے کہ میں خوف سے کانپ رہا تھا،‘‘ ایک بڑے ڈرامہ کلب کے لیے پبلک اسٹیج پر پہلی بار ناظرین سے روبرو ہونے کا اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے وہ کھل کر ہنستے ہیں۔
اسی جوش و خروش کے ساتھ اسیت دا بُنائی کی دنیا میں قدم رکھنے کا اپنا تجربہ بھی بیان کرتے ہیں: ’’میں نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ کسی بنکر گھرانے میں چھوٹے بچوں سے لے کر گھر کے مردوں اور عورتوں تک، ہر شخص لوم سے متعلق مختلف کاموں میں شامل ہوتا ہے۔‘‘ سوت کاتنا، رنگنا، چرخے کا استعمال کرتے ہوئے دھاگے کو ٹیوب میں لپیٹنا، پھر اس ٹیوب سے ڈرم کی شکل میں رول کرنا اور پھر آخر میں اسے کرگھے پر لگانا جیسے کام گھر کے مختلف عمر کے افراد کرتے ہیں۔ ’’اور کسی دوسرے تانتی [بُنکر] گھرانے کی طرح، ہمارے گھر میں بھی، ہمیں چھوٹی عمر سے ہی اس کام میں شامل ہونا پڑا،‘‘ وہ مزید کہتے ہیں۔








