نوٹ: پاری نے معمر افراد اور معذوری کے موضوع پرکئی رپورٹیں شائع کی ہیں۔ اب ہم مخصوص موضوعات کے طور پر اس جانب توجہ مرکوز کریں گے۔ یہ ہماری پہلی تحریر ہے۔

Sangrur, Punjab
|THU, OCT 02, 2025
پنجاب کے معذور کسانوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں
دیہی پنجاب میں زرعی مشینری کے حادثات کے باعث پیدا ہونے والی معذوری عام ہے، لیکن اس کے باوجود زندگی کی پیش رفت جاری رہتی ہے۔ یکم اکتوبر کو اقوام متحدہ کے معمر افراد کے عالمی دن کے موقع پر پیش ہے عمر رسیدگی اور معذوری کے موضوع پر ایک رپورٹ
Author
Editor
Photo Editor
Translator
کئی دہائی پہلے اپنا دایاں بازو گنوا دینے کے باوجود سرجیت سنگھ اب بھی یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں کہ ان کا ایک عضو کم ہے۔
’’میں چارہ کاٹنے کے علاوہ سب کچھ کر سکتا ہوں۔ چارہ کاٹنے کے لیے دونوں ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک پکڑنے کے لیے اور دوسرا درانتی چلانے کے لیے،‘‘ بزرگ کسان کہتے ہیں۔ اور پھر وہ ایسے کئی کاموں کے نام گنواتے ہیں جو وہ سنگرور ضلع کے رنگیاں گاؤں میں اپنے دس ایکڑ کھیت پر ہر روز کرتے ہیں۔
لیکن ان کی اہلیہ کلونت کور بغیر کسی گومگو کے ان دعووں کو رد کرتے ہوئے گفتگو میں شریک ہو جاتی ہیں۔ ’’یہ تو اپنے پائجامے کا ازاربند تک نہیں باندھ سکتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’صبح کے وقت رفع حاجت کے بعد خود کو ٹھیک سے صاف بھی نہیں کر پاتے۔ جب ان کی پیٹھ میں کھجلی ہوتی ہے، تو اسے شانت کرنے کے لیے ان کے ہاتھ ہی نہیں ہیں۔ وہ اکثر اپنی پیٹھ کسی دیوار یا درخت سے رگڑتے ہیں۔‘‘
اس کے باوجود سرجیت سنگھ ان فوائد کی ’اہلیت‘ نہیں رکھتے جن کا کوئی معذور شہری حقدار ہوتا ہے۔ انہوں نے پٹواری (گاؤں کی سطح کا ایک سرکاری اہلکار جو زمین کا ریکارڈ رکھتا ہے) سے رابطہ کیا۔ ’’لیکن اس نے مجھے بتایا کہ ’آپ اہل نہیں ہیں کیونکہ آپ کے پاس زمین ہے۔‘ لہٰذا میں گھر واپس آ گیا۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کیونکہ زمین مالک اور بے زمین دونوں ہی قانونی طور پر اس کے حقدار ہیں۔ سرجیت کو نہ تو کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی کوئی معذوری پنشن (پنجاب میں۱۵۰۰ روپے ماہانہ) ملتی ہے۔ انہیں بڑھاپے کی پنشن بھی نہیں ملتی، جو ۶۰-۶۹ سال کے درمیان کے افراد کے لیے۱۵۰۰ روپے، اور ۷۰ سال سے اوپر والوں کے لیے۲۰۰۰ روپے ہے۔

Vishav Bharti

Vishav Bharti
ایسا لگتا ہے کہ ۷۲ سال کا یہ خاموش طبع شخص ایک ہاتھ سے مسلسل محنت کرنے کی اپنی بے پناہ صلاحیت کے سوا کسی اور چیز پر فخر محسوس نہیں کرتا۔ انہوں نے اپنا ہاتھ کیسے گنوایا؟ یہ ۱۹۹۰ کی دہائی کے وسط کا واقعہ ہے، سرجیت کہتے ہیں۔ ’’میرے بھائی اکثر مجھے چارہ کاٹنے کے کام سے روکتے تھے، کیونکہ بہت آسانی سے میرا دھیاں بھٹک جاتا تھا۔ اس دن ہم نے ٹوکا (چارہ کاٹنے کی مشینوں) کی مرمت کی تھی اور گنے کاٹ رہے تھے۔ پہلے میری انگلیاں رولرس میں پھنس گئیں اور اس نے پہلے میرا ہاتھ کھینچا، پھر میرا بازو،‘‘ یہ کہتے ہوئے ان کی سرخ آنکھیں جیسے خالی ہو جاتی ہیں۔
لیکن ان کی ۶۵ سالہ بیوی کلونت کور ان کی باتوں کے سرے کو وہاں سے پکڑتی ہیں، جہاں سے انہوں نے چھوڑا تھا۔ ’’ان کا بازو چارے کی طرح چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کٹ گیا تھا اور چاروں طرف خون پھیل گیا تھا۔ یہ دیکھ کر میں بیہوش ہو گئی تھی۔‘‘ سرجیت کو تقریباً ۲۰ دنوں تک ہسپتال میں گزارنا پڑا تھا۔ لیکن جو کچھ ہوا اس پر افسوس کرنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں تھا۔ ان سب کے بعد روزی روٹی کا انتظام کرنا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ کھیتوں میں واپس آ گئے تھے۔ ’’ہمیں یہ بات اس وقت پتہ چلی، جب ہمارے ایک پڑوسی نے ہمیں بتایا کہ اگرچہ اس نے سرجیت کو روکنے کی کوشش کی تھی، پھر بھی وہ بورویل ٹھیک کرنے کے لیے ایک ہی ہاتھ سے اس میں نیچے اتر گئے تھے۔ میں نے انہیں کبھی بھی اپنا ہاتھ کھونے کا افسوس کرتے نہیں دیکھا،‘‘ کلونت کہتی ہیں۔
’’اگر ان کے دونوں ہاتھ سلامت رہتے تو وہ ان دیواروں کو خالص سونے سے ڈھال دیتے۔ وہ ہمیشہ اس قدر محنتی تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
سُرجیت سنگھ اور اُن جیسے کئی لوگ اُس دوسری قسم کی ’’فصل‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں، جسے سبز انقلاب اور اُس کے ہمراہ آنے والی ٹیکنالوجی اور خودکاری نے ۱۹۷۰ کی دہائی کے اوائل میں متعارف کرایا تھا۔ پنجاب کے گاؤوں میں ایسی بے شمار کہانیاں موجود ہیں، مگر وہ سب خاموشی میں دبی رہ جاتی ہیں۔

Vishav Bharti
صرف اسی ریاست میں ۱۹۷۵ سے ۱۹۷۸ کے درمیان رزاعتی مشینری سے متعلق ۸۴۱ حادثات پیش آئے تھے۔
پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ بورڈ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف ۲۰۰۷-۱۲ کے درمیان کل ۶۱۹۶ زراعتی حادثات پیش آئے تھے۔ ان میں سے ۴۲۱۸، یا ۰۸ء۶۸ فیصد حادثات چارہ کاٹنے والی مشین سے متعلق تھے۔ مزید ۱۳۹۵، یا ۵۱ء۲۲ فیصد حادثات ہارویسٹر اور تھریشر کی وجہ سے پیش آئے تھے۔ اور ۵۸۳، یا ۴۱ء۹ فیصد حادثات میں ٹریکٹروں اور اس سے متعلقہ آلات شامل تھے۔
مارکیٹنگ بورڈ کے حادثے کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والی ایک اور تحقیق – جس کے تخمینوں کو محتاط اندازے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے – یہ ظاہر کرتی ہے کہ چارہ کاٹنے والی مشین اور تھریشر سے منسلک ۵ء۶۷ فیصد حادثات میں انگلیاں کٹ گئی تھیں۔ مزید ۲ء۱۸ فیصد معاملوں میں ہاتھ سے محروم ہونا پڑا۔ اور ۵ء۱۰ فیصد میں بازو کٹوانا پڑا۔ زراعتی حادثات کے متاثرین کو معاوضہ کے موضوع پر سال ۲۰۱۷ کا یہ مطالعہ پنجاب ایگریکلچر یونیورسٹی، لدھیانہ کے فارم مشینری اور پاور انجینئرنگ کے شعبہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔
لیکن پی اے یو کا مطالعہ مارکیٹنگ بورڈ کے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھاتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ۲۰۰۷-۱۲ کی مدت کے دوران صرف تین سالوں میں زراعتی حادثات کی اصل تعداد ۹۱۸۸ تھی اور ۲۵۰ ملین روپے کا معاوضہ صرف ۵۴۹۲ افراد میں تقسیم کیا گیا – اوسطاً ہر ایک کو ۵۰ ہزار روپے سے بھی کم ملے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پرکم از کم حادثہ کے ۳۶۹۶ متاثرین یا کل ۹۱۸۸ میں سے ۴۰ فیصد سے زیادہ افراد کو کوئی معاوضہ نہیں ملا۔
یہ حادثات سبز انقلاب کے ساتھ نئی قسم کی مشینری کے متعارف ہونے کے فوراً بعد رونما ہونے شروع ہوئے۔ پنجاب کا شاید ہی کوئی ایسا گاؤں ہو گا جہاں آپ کو کھیتوں میں ہونے والے حادثات سے معذور کوئی شخص نہ ملے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ متاثرین کے لیے معذوری کے بعد کا مرحلہ بھی اکثر مشکل رہا ہے۔ ’’بنیادی اقتصادی مسئلہ ان کی سالانہ آمدنی میں آنے والی بھاری کمی اور مستقل جسمانی معذوری ہے،‘‘ یہ باتیں چنڈی گڑھ میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونی کیشن کی جانب سے کیے گئے ایک مطالعہ میں کہی گئی ہیں۔ ’’اس کی وجہ سے وہ اپنے روزانہ کے معمولات کے لیے دوسروں پر منحصر ہو جاتے ہیں۔‘‘
پنجاب ملک کی ان پہلی ریاستوں میں سے ایک ہے جس نے زرعی حادثات کے متاثرین کے لیے معاوضہ کی پالیسی نافذ کی تھی۔ ہندوستانی پارلیمنٹ نے ۱۹۸۳ میں خطرناک مشینیں (ریگولیشن) ایکٹ پاس کیا۔ اور اگلے سال پنجاب نے زرعی حادثات کے متاثرین کے لیے مالی امداد کی اسکیم جاری کی۔ لیکن ۱۹۸۴ میں اس کے نفاذ کے بعد سے اس پر عمل درآمد بہت ناقص رہا ہے۔ سرجیت اس کی زندہ مثال ہیں۔
ان کے اپنے گاؤں رنگیان میں، جس کی پٹیالہ شاہی ریاست کے جاگیردارانہ جبر کے خلاف جدوجہد کی ایک تاریخ رہی ہے، زرعی مشینری کی وجہ سے حادثاتی طور پر معذوری کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مریض اس کے بعد مر چکے ہیں، لیکن سرجیت کے علاوہ اب بھی دو لوگ موجود ہیں۔
ایک اور کسان ۷۳ سالہ پال سنگھ، جو ۱۹۸۲ میں تھریشر کے ایک حادثہ میں اپنا دایاں ہاتھ اور بازو کا کچھ حصہ کھو بیٹھے تھے، کے ذہن میں جب بھی چار دہائیوں قبل پیش آنے والے حادثہ کا منظر ابھرتا ہے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ ’’میں نے کڑا (سکھ کڑا) پہنا ہوا تھا۔ میں بیکار نہیں بیٹھ سکتا تھا، اس لیے میں نے تھریشر میں تیل ڈالنا شروع کر دیا - جو چل رہا تھا، میرا کڑا فیڈر کے ایک بڑے بولٹ میں پھنس گیا اور اس نے میرا ہاتھ اس زور سے گھسیٹ لیا کہ اس کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اگلے ہی لمحہ میرا ہاتھ کلائی کے ایک حصہ کے ساتھ زمین پر پڑا تھا۔ موٹا گول کڑا چوکور ہو گیا تھا۔ یہ سب اتنا تکلیف دہ تھا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں سوچنے لگا کہ کاش میرا ہاتھ چارہ کاٹنے والی مشین سے کٹ گیا ہوتا، اس میں زیادہ تکلیف نہیں ہوتی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
پال نے ۲۰-۲۵ دن ہسپتال میں گزارے۔ تاہم، سرجیت کی طرح، ان کے پاس بھی اس حادثہ پر غور کرنے کا وقت نہیں تھا۔ ’’میں نے دو ماہ کے اندر ٹریکٹر چلانا شروع کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح، کھیتی باڑی اور بوائی نسبتاً آسان رہی، لیکن میں لیولنگ بھی کرتا تھا۔ میں صبح ۴ بجے لیولنگ کا کام شروع کرتا اور ۱۶ گھنٹے تک کرتا، جس میں اکثر دونوں ہاتھوں کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں ان کے لیے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ’’زیادہ نہیں، سوائے اس کے کہ مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے میری مٹھی مضبوطی سے بند ہے اور کوشش کے باوجود میں اسے نہیں کھول سکتا۔ ورنہ میں نے اپنے بائیں ہاتھ کو اس طرح سے تربیت دی ہے کہ اب مجھے یاد بھی نہیں کہ میں کبھی اپنے دائیں ہاتھ سے کوئی کام کرتا تھا۔‘‘

Vishav Bharti

Vishav Bharti
پال سنگھ کے برعکس نصیب کور، جن کی عمر۷۰ کے قریب ہے اور اسی گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں، اپنے بائیں ہاتھ کی یادوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ تقریباً ایک دہائی قبل چارہ کاٹنے والی مشین پر کام کرتے ہوئے کٹ گیا تھا۔ ’’چارہ کاٹنا زندگی کے معمولات میں شامل تھا۔ یہ کام میں بچپن سے کرتی آئی تھی ، شام کے تقریباً ۷ بجے کا وقت تھا۔ پہلے میرا انگوٹھا رولر میں پھنس گیا، پھر اس نے میرا ہاتھ بھی نگل لیا، میں چیخنے لگی۔ میری بہو گھبراہٹ کی وجہ سے انجن بند نہ کر سکی۔ میری چیخیں سن کر پڑوسیوں نے دوڑ کر میرا ہاتھ مشین سے نکالا اور مشین بند کی۔‘‘
ان تینوں میں صرف انہیں ہی بڑھاپا پنشن کے طور پر ۱۵۰۰ روپے ماہانہ کی رقم ملتی ہے۔ لیکن معذوری کا نہ تو کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی پنشن ملی۔ ان تینوں میں سے صرف پال سنگھ کو ۱۵۰۰ روپے ماہانہ معذوری پنشن ملتی ہے۔ سرجیت سنگھ کو کچھ نہیں ملتا۔ کسی بزرگ شہری کو سرکاری فوائد تک رسائی حاصل کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ ان لوگوں کے لیے جو بزرگ اور معذور دونوں ہیں، یہ نوکر شاہی سے وابستہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ سرکاری اہلکار اکثر ان کے دعووں کو غلط کہہ کر یا کسی وضاحت کے ساتھ مسترد کر دیتے ہیں۔
نصیب کو وہ دن یاد آتے ہیں جب وہ اپنے بالوں میں کنگھی کیا کرتی تھیں یا چوٹی بناتی تھیں، اور وہ باروچی خانہ کا کام کرتی تھیں، یا مویشیوں کا دودھ تیزی سے دوہ لیتی تھیں – اور وہ اچانک سوچ میں ڈوب جاتی ہیں – ایک مختصر توقف کے بعد، وہ کہتی ہیں، ’’اب میں یہ سب نہیں کر سکتی۔‘‘

Vishav Bharti
کیا وہ روٹیاں بیل سکتی ہیں؟ ’’ہاں، مجھے بیلنی پڑتی ہے۔ اگرچہ وہ ناہموار شکلوں میں نکلتی ہیں، لیکن میں کر ہی کیا سکتی ہوں؟ میں نے کون سا غلط کام کیا تھا کہ مجھے یہ سب دیکھنا پڑا؟‘‘ ان کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں، آنسو کے قطرے گالوں پر لڑھک جاتے ہیں، اور وہ ان کو پونچھنے کے لیے اپنا سفید دوپٹہ اٹھاتی ہیں۔ ’’مشکل وقت آسانی سے بھلایا نہیں جاتا،‘‘ سرجیت کی بیوی کلونت انہیں تسلی دینے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ سب دیکھ کر سرجیت سنگھ خاموشی سے چارپائی سے اٹھ کر اس کھونٹے کی جانب چل دیتے ہیں جس سے ان کا بیل بندھا ہوا تھا۔ وہ دائیں ہاتھ کے ٹھونٹھا سے رسی کی گرہیں کھولنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا کھویا ہوا دایاں بازو اب بھی حرکت کر رہا ہو – ناگفتہ، نادیدہ، لیکن کبھی کھویا نہیں۔
یہ اسٹوری پاری سینئر فیلوشپ ۲۰۲۵ کے تحت شائع کی گئی ہے۔
ترجمہ نگار: شفیق عالم
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/in-punjab-green-revolution-red-harvest-ur

