رندیپ سنگھ اتنے خوش قسمت نہیں تھے کہ انہیں گرفتار کر کے پیروں میں بیڑیاں لگائی جاتیں اور امریکہ سے امرتسر آنے والی سی-۱۷ فلائٹ کی ایک سیٹ سے جکڑ دیا جاتا۔ مسلسل ۲۶۴ دنوں تک اجنبی سرزمین پر جدوجہد کرنے کے بعد، بالآخر اس سال ۲۱ فروری کو غیر قانونی طریقے (ڈنکی روٹ) سے امریکہ جاتے ہوئے کمبوڈیا میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پرگٹ سنگھ زیادہ خوش قسمت تھے۔ وہ ایک اور پنجابی تھے جنہوں نے بیرونی ملک جانے کے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کا سفر اختیار کیا تھا۔ اس سفر کا آغاز ان کے کنبے کی ۳ ایکڑ اراضی کا آدھا حصہ اور ان کی ماں کے زیورات کا بیشتر حصہ فروخت کرنے سے ہوا، اور اس کا خاتمہ ہندوستان میں ملک بدری کے ساتھ ہوا۔ وہ ہتھکڑیوں میں گھر واپس آئے، لیکن اپنی کہانی سنانے کے لیے بہرحال زندہ رہے۔
پنجاب کے ضلع موہالی کے گاؤں شیخ پورہ کلاں میں رندیپ کے گھر میں اب صرف سَتھر (ماتم پرسی) ان کی دل دہلا دینے والی خوفناک کہانی کی گواہی دے رہی ہے۔ دو کمروں کے چھوٹے سے مکان میں سوگواروں کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے۔ یہ لوگ ان کی لاش کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا جلد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ کمبوڈیا میں ہندوستانی سفارت خانہ نے لاش کو وطن واپس بھیجنے کے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ۷۱۰۰ امریکی ڈالر (تقریباً چار لاکھ ۲۱ ہزار روپے) کی پیشگی رقم کا مطالبہ کیا ہے۔
چھ ہندسوں کی یہ بڑی رقم رندیپ کے والد بلوندر سنگھ (۵۵ سالہ) کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ایک مزدور ہیں، اور جس دن کام ملتا ہے اس دن ۵۰۰ روپے کما لیتے ہیں۔ بلوندر ہر آنے والے شخص کو، خواہ انہیں پہچانتے ہوں یا نہیں، ایک نازک امید کے ساتھ دیکھتے ہیں اور صرف ایک جملہ دہراتے ہیں ۔ ’’باڈی لیکے کے اَون دا دیکھو [لاش کو واپس لانے کے لیے کچھ کیجئے]۔‘‘
دیہی علاقوں میں بے روزگاری اور زرعی بحران کے باعث پنجاب سے فرار ہونے کی خواہش رکھنے والوں میں ۲۴ سالہ رندیپ تنہا نہیں تھے۔ وہ ایک بے زمین دلت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش اس شدید مایوسی کے درمیان ہوئی، جب فصلوں کی مسلسل ناکامی، کام کی عدم دستیابی، اور خودکشیوں کی لہر نے دیہی پنجاب کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔










