ان کی ماں سالوبائی سورن گھروں میں کام کرتی تھیں۔ ’’میں اکثر ان کے پیچھے پیچھے جاتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’سال میں دو تین بار وہ اور کچھ عورتیں بڑے گھروں میں جھاڑو لگاتیں، گئوشالہ صاف کرتیں، آنگن کو گوبر سے لیپتیں۔ پھر گھر کی مالکن ان کے سامنے دال یا بیسن کا بھرا برتن رکھتی اور ۱۰-۱۵ بھاکھریاں دور سے ان کی ساڑی میں اچھال دیتی – اس بات کی پوری کوشش کرتی کہ بدن کسی طرح سے چھونے نہ پائے۔‘‘
بلوطہ داری نظام (ذات پر مبنی نظام، جس میں ہر ذات کا کام متعین تھا) میں یہ کام ’مانگکی‘ کہلاتا تھا، جو مانگ برادری سے متوقع تھا۔ اس کے ساتھ، وہ اناج اور کھانے کے عوض بانس کا جھاڑو، کنگی اور اناج رکھنے کی دُرڑی بھی بناتے تھے۔
بعد میں گنگادھر کے والد نے دیسی شراب بنانا شروع کیا، جس سے کچھ آمدنی ہونے لگی۔ ’’ایک دن پولیس آئی اور انہیں پکڑ لیا۔ اس نے جبراً پوتراج کے روایتی لمبے بال کٹوا دیے، جو پوتراج کے لیے رکھنے ضروری ہوتے ہیں۔ بدلے میں انہیں کوتوال کی نوکری دے دی گئی، تاکہ وہ شراب بنانا بند کر دیں۔‘‘
یہ ۷۰-۸۰ کی دہائی کا وقت تھا جب بلوطہ داری نظام ختم ہو رہا تھا اور نئے نظام بن رہے تھے۔ کوتوال گاؤں اور حکومت کے درمیان کی کڑی تھا – ایک طرح کا تنخواہ دار گرام سیوک۔ بلوطہ داری نظام میں مہار اور مانگ پورے گاؤں کی خدمت کرتے تھے۔ کوتوال کو تھوڑی سی رقم دی جاتی تھی اور وہ حکومت اور گاؤں والوں کے درمیان کی ایک کڑی تھا۔ انہیں ریاست کے ذریعہ تعینات کیا گیا خدمت گار بھی کہا جا سکتا تھا۔ گنگادھر کے والد کو یہ عہدہ ملا اور اس نوکری کے ساتھ تھوڑی عزت بھی ملی۔ سماج میں ’ایک سیڑھی اوپر چڑھ کر‘ انہوں نے اپنے بچوں کو اسکول میں ڈالا۔
گھر کے سبھی بچے – گنگادھر، ان کے بڑے بھائی اور پانچوں بہنیں – اسکول جانے لگے۔ بہنیں تیسری چوتھی تک پڑھیں، لیکن دونوں بھائی دسویں تک پہنچے۔ انہوں نے مانگکی کے ذات پر مبنی نظام کو ٹھکرا کر نیا راستہ چُنا۔ بھائی والد کی جگہ کوتوال بنے۔ گنگادھر کے پاس نوکری نہیں تھی۔ وہ مزدوری کرتے اور خالی وقت میں بھیم گیت گانے لگے، جو امبیڈکر کی زندگی اور کاموں پر مبنی ہوتے تھے۔
گنگادھر کو بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ہنر انہیں اپنی ماں اور بہنوں سے ملا۔ وہ سب الگ الگ دیوتاؤں کی پوجا کرتی تھیں اور متعدد برت اُپواس (روزہ) رکھتی تھیں۔ الگ الگ دنوں میں الگ دیوتاؤں کے لیے اُپواس ہوتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ گاؤں کی بہت سی عورتیں اُپواس کے بہانے کھانا بچاتی بھی تھیں۔ ’’میری ماں اور بہنیں جِنتور [پربھنی سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور ایک قصبہ] کے ایک گوساوی کی پیروکار تھیں۔ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ جگہ جگہ گھومتا تھا۔ پیدائشی مہار تھا، لیکن اس نے بودھ مذہب نہیں اپنایا تھا۔ وہ اتوار کو دُھرپدا مائی کے لیے، پیر کو مہادیو کے لیے اور بدھ کو کرشن کے لیے برت رکھتی تھیں۔‘‘